’امریکہ مشرف کی حمایت نہ کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (نون) کے رہنما میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ امریکہ کو صدر مشرف کی حمایت کے بجائے پاکستان کی نو منتخب پارلیمان کےساتھ کام کرنا چاہیے ۔ نواز شریف نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکی صدر جارج بش کی صدر مشرف کے ساتھ ذاتی دوستی کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب نہیں ہونے چاہیئیں۔ اس انٹرویو میں نواز شریف نے کہا کہ صدر مشرف کے واشنگٹن میں چند ہی حامی رہ گئے ہیں اور امریکی انتظامیہ کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اب انہیں منتخب پارلیمان اور منتخب حکومت کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ’میرے امریکہ کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ اچھے دوست ہیں لیکن صدر مشرف اور صدر بش کی دوستی کو پاکستان اور امریکہ کی دوستی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ یہ دو الگ ملک کے معذول جوہری سائنسداں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بارے میں بات کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ کہ ان کے دور حکومت میں ان کے سامنے جوہری معلومات یا ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا۔ |
اسی بارے میں ’مشرف کی پالیسی کا جائزہ لیں گے‘25 March, 2008 | پاکستان ’ امریکہ کی خاطر مروایا جا رہا ہے‘ 02 March, 2008 | پاکستان عدلیہ کی بحالی: نواز لیگ کا حلف07 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||