BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 February, 2008, 05:51 GMT 10:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ افراد: نواز شریف سے مدد کی اپیل

نواز شریف
نواز شریف نے لاپتہ افراد کے عزیزوں کی معاونت کا عہد کیا
پاکستان میں مبینہ طور پر خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں جبری طور لاپتہ کر دیے گئے افراد کے اہلخانہ نے سینچر کے روز مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف سےملاقات کر کے ان سے اپیل کی کہ وہ ان کے لاپتہ عزیزوں کی بازیابی کے لیے مدد کریں۔

مسلم لیگ نواز کے ماڈل ٹاؤں لاہور میں واقع مرکزی دفتر میں لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے اپنے عزیزوں کی بازیابی کی کوشوں کے سلسلہ میں نواز شریف سے ملاقات کی ۔یہ افراد نواز شریف کی دعوت پر لاہور آئے تھے۔

ملک بھر سے آنے والے ایک سو سے زائد افراد کے ہاتھوں میں ان کے لاپتہ رشتہ داروں کی تصویریں اور آنکھوں میں آنسو تھے۔ لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر رشتہ داروں کی رہائی کے علاوہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے مطالبات بھی درج تھے۔

تحفظ حقوق انسانی کی رکن آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد غائب ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ کہ جسٹس افتخار محمد چودھری اور تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ کو بحال کیا جائے اور لاپتہ افراد کو باعزت رہا کیا جائے۔

لاپتہ افراد کے رشتہ دار
دو سال سے لاپتہ چوبیس سالہ فیصل فراز کے بوڑھی ماں زینب خاتون اپنی بیٹے کی گمشدگی کے بارے میں بتائے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔انہوں نے کہا کہ میں کس سے فریاد کروں کہ کوئی مجھے بتائے کہ میرا بیٹا کہاں ہے؟

چھبیس سالہ عتیق کی بہن نے بتایا کہ ان کا بھائی چار سال پہلے غائب ہوا اور ابھی تک ان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ان کے بقول جس وقت ان کے بھائی کی شادی کی تقریب ہو رہی تھی اس دن عتیق کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ایک بھائی لاپتہ ہے جبکہ دوسرے بھائی عمران کو کسی نے گولی مار کر قتل کردیا گیا۔

عتیق کی والدہ نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کی صورت بھول گئی ہیں اور اس کی آواز سننے کے ترس رہی ہے۔

ڈاکٹر عابدشریف کی اہلیہ نے بتایا کہ ان کے شوہر دوسال قبل گھر سے پشاور گئے پھر لوٹ کر نہیں آئے۔ مسز عابدشریف نےاپنے ڈیرھ سال بیٹے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس بچے کی ولادت ان کے شوہر گمشدگی کے بعد ہوئی۔

لاپتہ افراد کے رشتہ داروں سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے ان کو یقین دلایا کہ اٹھارہ فروری کے بعد جج بحال ہونگے اور لاپتہ کو افراد رہا ہونگے جبکہ ان کو قید کرنے والے مجرم ٹھرائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی برطرفی کی ایک وجہ لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت بھی ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ ان کو لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی فہرستیں فراہم کی جائیں تاکہ غائب افراد کے رشتہ داروں کی معاونت کی جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد