شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | مزید پندرہ لاپتہ افراد کا سراغ لگالیا گیا ہے :ڈپٹی اٹارنی جنرل |
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کے سیکرٹریوں کو حکم دیا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر ایجنسیوں کی تحویل میں رکھے گئے افراد کی رہائی کا بندوبست کریں بصورت دیگر اس کیس کو قانونی طریقے سے چلانا پڑے گا۔ یہ احکامات انہوں نے لاپتہ افراد کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران دیے۔ اس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کر رہا ہے۔ چیف جسٹس نے سیکرٹری دفاع کامران رسول اور سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ کو حکم دیا ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوں۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دلایا تھا کہ غیر قانونی طور پر تحویل میں لیےگئے تمام افراد کو رہا کر دیا جائے گا لیکن ہر سماعت پر حکومت ایک آدھ شخص کے بارے میں عدالت کو بتاتی ہے کہ وہ فلاں ادارے کی تحویل میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم روز روز اس کی مشق نہیں کر سکتے اور عدالت کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ لاپتہ ہونے والے افراد ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں‘۔  |  ہم روز روز اس کی مشق نہیں کر سکتے اور عدالت کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ لاپتہ ہونے والے افراد ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں۔  چیف جسٹس |
چیف جسٹس نے عدالت میں موجود ڈپٹی اٹارنی جنرل ناہیدہ محبوب الہی کو حکم دیا کہ وہ مذکورہ سیکرٹریوں کے ساتھ مل کر اس ضمن میں ایک جامع رپورٹ تیار کر کے عدالت میں پیش کریں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مزید پندرہ افراد کا سراغ لگا لیا گیا ہے جبکہ باقی ماندہ افراد کا سراغ لگانے کے لیے کو ششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک ایک سو چھیاسی لاپتہ افراد کا سراغ لگایا جا چکا ہے۔ ناہیدہ محبوب الہی نے لاپتہ ہونے والے افراد میں شامل سندھ کے ڈاکٹر صفدر سرکی کی بلوچستان پولیس کی تحویل کے بارے میں عدالت کو بتایا۔ مذکورہ شخص کی بہن نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر سرکی شدید بیمار ہیں اور چل پھر بھی نہیں سکتے جس پر عدالت نے حکم دیا کہ ڈاکٹر صفدر سرکی کا علاج کروایا جائے اور ان کے اہلخانہ کی ان سے ملاقات کروائی جائے۔ عدالت نے لاپتہ ہونے والے افراد کے فہرست میں شامل آصف بالادی اور بشیر شاہ کے بارے میں اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ وہ ان افراد کے بارے میں بتائیں وہ کہاں ہیں۔ عدالت نے ان مقدمات کی سماعت یکم نومبر تک ملتوی کردی۔ |