سرکی سمیت تین لاپتہ ’مل گئے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سپریم کورٹ میں جمعرات کے دن لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت کے بعد شام کے وقت سندھ کے تین لاپتہ قوم پرست رہنماؤں کو پولیس کے ذریعے ظاہر کر کے انہیں باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ قریباً دو برس کے بعد ظاہر ہونے والے رہنماؤں میں امریکی شہری اور جئے سندھ قومی محاذ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر صفدر سرکی کے علاوہ جی ایم بھگت اور چیتن بجیر شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ صفدر سرکی کو بلوچستان کے علاقے حب میں ساکران پولیس چوکی سے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کےجرم میں گرفتار کیا گیا ہے اور بلوچستان پولیس جمعہ کو انہیں مقامی عدالت میں ریمانڈ کے لیے پیش کرے گی۔یاد رہے کہ ڈاکٹر صفدر سرکی کو چوبیس مارچ دو ہزار چھ کو کراچی سے ان کی بہن کے بقول پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کےاہلکاروں نے پولیس کی مدد سے حراست میں لیا تھا۔ دوسری جانب پاکستان کے سرحدی ضلع عمرکوٹ کی پولیس نے دو برس سے لاپتہ دو ہندو سندھی قوم پرست رہنماؤں جی ایم بھگت اور چیتن بجیر کی گرفتاری بھی ظاہر کر دی ہے۔ عمر کوٹ پولیس کے مطابق دونوں رہنما حیدرآباد پولیس کو تخریب کاری کے متعدد مقدمات میں مطلوب ہیں اور دونوں کو حیدرآباد پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا۔ عمر کوٹ پولیس کےمطابق دونوں گرفتار رہنماؤں کو جمع کے دن حیدرآباد میں انسدادِ دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں ریمانڈ کے لیے پیش کیا جائےگا۔عمر کوٹ کے صوفی منش جی ایم بھگت کو ان کے بیٹے کے بقول نو ستمبر دو ہزار چھ کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے شہر کے کرشن حجام کی دکان سے حراست میں لیا تھا۔ جمعرات کی شام عمر کوٹ تھانے میں موجود جی ایم بھگت نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ’ لاپتہ ہونے کا عرصہ امتحان میں کاٹا اور عشق سلامتی سے واپس پہنچے ہیں‘۔انہوں نے پنجابی شاعر بابا بلھے شاہ کا شعر سناتےہوئے کہا کہ’ایمان سلامت ہر کوئی منگے اساں عشق سلامت منگے جی ایم بھگت نے بتایا کہ انہیں میرپورخاص شہر میں خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے عمر کوٹ کے لیے بس میں سوار کیا اور وہ جیسے ہی عمرکوٹ کے قریب پہنچے تو پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔
جی ایم بھگت کے ساتھ عمر کوٹ کے سابق قوم پرست رہنما چیتن بجیر کی گرفتاری بھی ظاہر کردی گئی ہے جنہیں بقول ان کے بھائی بارہ جولائی دو ہزار چھ کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار ان کے گھر سے اٹھا کر لے گئے تھے۔چیتن بجیر کے بھائی کھیم چند نے بی بی سی کو بتایا کہ جی ایم اور چیتن دونوں کی بازیابی کی اطلاع انہیں جمعرات کی شام کو ملی اور دونوں سےجب ملاقات ہوئی تو انتہائی کمزور نظر آ رہے تھے۔ کھیم چند نے کہا کہ پاکستان میں لاپتہ ہونےسے گرفتار ہونا بہتر ہے۔گرفتاری میں اپنے بندے کے زندہ ہونے کی تسلی تو ہوتی رہتی ہے لاپتہ افراد کا تو کوئی پتہ نہیں چلتا کہ وہ زندہ بھی ہیں کہ نہیں۔ |
اسی بارے میں گرفتاریاں باقاعدہ بنائیں: عدالت11 October, 2007 | پاکستان سندھی رہنماء کی رہائی کے لیے پٹیشن22 August, 2007 | پاکستان ’لاپتہ افراد کی تلاش میں حکومت ناکام‘03 July, 2006 | پاکستان سندھی رہنما پولیس تحویل میں17 March, 2007 | پاکستان لاپتہ رہنماء اورگیارہ اکتوبر کا انتظار09 October, 2007 | پاکستان آصف بالادی کے اہلخانہ کا احتجاج14 August, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||