BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 October, 2007, 12:40 GMT 17:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گرفتاریاں باقاعدہ بنائیں: عدالت

حقوق انسانی کی تنظیموں کے مطابق دو سو سے زائد افراد ابھی بھی ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ ہیں
حقوق انسانی کی تنظیموں کے مطابق دو سو سے زائد افراد ابھی بھی ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ ہیں
پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اٹارنی جنرل سے کہا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کی تحویل میں رکھے ہوئے افراد کی گرفتاری کو باقاعدہ بنائیں ورنہ رہا ہونے والے افراد کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انکی گواہیوں کی بنیاد پر ذمہ دار افراد کو عدالت میں بلاکر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

چیف جسٹس افتخار چوہدری نے یہ ریمارکس جمعرات کو لاپتہ ہونے والے افراد کے مقدمات کی سماعت کے دوران دیے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ثبوت مل گئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لاپتہ ہونے والے افراد ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں۔

اٹارنی جنرل ملک قیوم نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ ہونے والے افراد میں سے زیادہ تعداد میں افراد کو رہا کر دیا گیا ہے جبکہ باقی افراد کی رہائی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کی طرف سے پیش کی جانے والی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کی تحویل سے رہا ہونے والے منیر احمد کی ڈائری سے معلوم ہوتا ہے کہ راولپنڈی کا تاجر مسعود احمد جنجوعہ اور دیگر افراد ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مسعود احمد جنجوعہ خفیہ ایجنسیوں کی تحویل میں نہیں ہیں۔

’لاہور چڑیا گھر کے پیچھےقیدخانہ‘
 انسانی حقوق کی سرگرم کارکن عاصمہ جہانگیر نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ چار سو سولہ افراد میں سے ابھی تک صرف ایک سو نواسی افراد کو رہا کیا گیا ہے جبکہ باقی افراد ابھی تک ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لاہور چڑیا گھر کے پیچھے آئی ایس آئی کا دفتر ہے جہاں پر زیادہ تر لاپتہ ہونے والے افراد کو رکھا گیا ہے۔
انسپکٹر جنرل آف پنجاب پولیس احمد نسیم نے عدالت میں پیش ہو کر کہا کہ اسامہ نذیر جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کی تحویل میں ہے، ٹیکسلا پولیس کی تحویل میں ہے۔ اٹارنی جنرل نے صحافیوں کو بتایا کہ مذکورہ شخص ٹیکسلا میں واقع چرچ میں ہونے والے دھماکے میں پولیس کو مطلوب تھا۔

واضح رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ میں اُسامہ نذیر کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس سے قبل اسامہ نذیر کے وکیل شوکت صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ شخص ملٹری انٹیلیجنس کی تحویل میں ہے۔

انصر علی جسے انٹیلیجنس ایجنسیاں سات جنوری دو ہزار چار کو اٹھا کر لےگئیں تھیں، کے والد عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ دس اکتوبر دو ہزار سات کو انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اہلکار اس کے بیٹے کو چکوال روڈ پر ایک ویران جگہ پر چھوڑ کر چلے گئے۔

اے لیول کے طالبعلم مصطفی اعظم کے والد نے عدالت کو بتایا کہ اس کے بیٹے کو تیرہ ستمبر دوہزار چھ کو انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اہلکار اٹھا کر لےگئے اور بعد ازاں معلوم ہوا کہ اسے بچوں کی جیل میں رکھا گیا ہے اور جب وہ جیل میں اپنے بیٹے کا پتہ کرنے کے لیے گئے تو جیل کے حکام نے بتایا کہ مذکورہ طالبعلم اس جیل میں نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ وہ اس معاملے کی چھان بین کر کے عدالت کو بتائیں۔

انسانی حقوق کی سرگرم کارکن عاصمہ جہانگیر نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ چار سو سولہ افراد میں سے ابھی تک صرف ایک سو نواسی افراد کو رہا کیا گیا ہے جبکہ باقی افراد ابھی تک ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ لاہور چڑیا گھر کے پیچھے آئی ایس آئی کا دفتر ہے جہاں پر زیادہ تر لاپتہ ہونے والے افراد کو رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے پندرہ سے بیس افراد ایسے ہیں جنکی جسمانی حالت انتہائی خراب ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے الزام لگایا کہ انٹیلیجنس ایجنسی کے اس دفتر سے لوگوں کو جہاد پر جانے کے لیے پیسے دیے جاتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے ایبٹ آباد سے لاپتہ ہونے والے شخص عتیق الرحمن کی گمشدگی کے بارے میں ڈی آئی جی ایبٹ آباد کو آئندہ سماعت پر عدالت میں طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے ان مقدمات کی سماعت انتیس اکتوبر تک ملتوی کردی۔

لاپتہ افرادامید سپریم کورٹ سے
لاپتہ رہنماؤں کے عزیز عدالت سے پرامید ہیں
قوم پرست ’لاپتہ‘ فرد کی ڈائری’قیدی لاہور کے‘
ایک قوم پرست ’لاپتہ‘ کارکن کی ڈائری
احتجاجاسلام آباد میں مظاہرہ
لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے احتجاج کی تصاویر
شیرپاؤ’رابطہ کریں‘
لاپتہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں: آفتاب شیرپاؤ
بھوک ہڑتالی کیمپ’لاپتہ کی تلاش‘
گمشدہ بلوچوں کی بازیابی کےلیے بھوک ہڑتال
حراست: انوکھاجواز
’حراست وزیراعظم کے ایما پر بتائی گئی‘
لاپتہ افرادگمشدہ افراد واپس
سرحد میں آٹھ افراد رہا ہوئے: انسانی کمیشن
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد