لاپتہ افراد کے لیے بھارت سے رابطہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے محکمہ خارجہ نے بھارتی حکام کے ساتھ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ان تین اشخاص کا معاملہ اٹھایا ہے جو چار ماہ قبل لاپتہ ہو گئے تھے اور جن کےخاندان والوں کے مطابق انہیں بھارتی فوج پکڑ کر لے گئی تھی۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان تین افراد کے معاملے پر بھارتی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ یہ تینوں افراد گزشتہ سال سترہ ستمبر کو اس وقت لاپتہ ہوگئے تھے جب وہ اپنے گھر جا رہے تھے‘۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’ہمارے خیال میں ان لوگوں کو کسی طرح سے لائن آف کنڑول کی دوسری جانب لے جایا گیا ہے اور یہ کہ یہ لوگ ابھی تک لاپتہ ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ’ ہم نے ان تین افراد کے بارے میں پر بھارتی حکام سے دو مرتبہ ہاٹ لائن پر بات چیت کی اور اس کے علاوہ محمکہ خارجہ نے اسلام آباد میں قائم بھارتی ہائی کیمشن کو بھی ایک باقاعدہ نوٹ کے ذریعے آگاہ کیا‘۔ محمد صادق کا کہنا تھا کہ’ بھارتی حکام نے اس سلسلے میں ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہمیں بھارتی حکومت کے جواب کا انتظار ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’ ہم جلد از جلد ان لوگوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔ لاپتہ ہونے والے ان تینوں افراد کا تعلق وادی نیلم کے گاؤں ڈھکی چکناڑ سے ہے۔ یہ گاؤں مظفرآباد سے کوئی دو سو کلو میٹر دور لائن آف کنڑول پر واقع ہے۔ اس گاؤں کو جانے والے راستے میں ایک ایسا ٹکڑا ہے جو بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ہوکر گزرتا ہے اور اس کے سوا اس گاؤں کو پہنچے کا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ لاپتہ ہونے والے افراد کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ ان کے عزیزوں کو امکانی طور پر اسی مقام سے گزرتے ہوئے بھارتی سکیورٹی فورسز نے حراست میں لے لیا۔ اس واقعہ کے کچھ ہی عرصہ بعد لاپتہ ہونے والے افراد کے خاندان والوں سمیت اس گاؤں کے لگ بھگ دو سو خاندانوں نے نقل مکانی کی اور اب یہ خاندان وادی نیلم کے ضلعی ہیڈ کواٹر اٹھمقام میں حکومت کی طرف سے قائم کی گئی ایک خیمہ بستی میں آباد ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اسی صورت میں اپنے گھروں کو واپس جائیں گےکہ ان کو اپنے گاؤں میں تحفظ دیا جائے گا اور گاؤں جانے کے لیے محفوظ اور متبادل راستہ فراہم کیا جائے گا۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے چیف سیکریڑی میجر رٹیائرڈ جاوید مجید یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو اپنے گاؤں میں مشکلات کا سامنا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کو کسی دوسری جگہ آباد کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں سرحد: آٹھ لاپتہ افراد کی واپسی24 May, 2007 | پاکستان ’بھارتی خاندانوں کی بے مثال مدد کی‘11 June, 2007 | پاکستان لاپتہ بھارتی جنگی قیدیوں کی تلاش02 June, 2007 | پاکستان ’قیدی تخت لاہور کے‘15 September, 2007 | پاکستان پانچ کشمیری خاندانوں کی منتقلی12 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||