BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 September, 2008, 10:05 GMT 15:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہری ہلاکتوں میں’تین گنا اضافہ‘
ہرات
ہرات میں سویلین ہلاکتوں کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی تھیں
حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم’ہیومن رائٹس واچ‘ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں سنہ 2006 کے مقابلے میں سنہ 2007 میں امریکی اور اتحادی افواج کے فضائی حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں تین گنا اضافہ ہوا۔

یہ بات تنظیم کی نیویارک سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سنہ 2006 میں شدت پسندی کی کارروائیوں اور خودکش حملوں میں ہلاک ہونے والے افغان شہریوں کی تعداد کم از کم چھ سو ننانوے تھی جبکہ اسی دوران دو سو تیس شہری بین الاقوامی و امریکی فوج کی کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے جن میں سے نصف فضائی حملوں میں مارے گئے۔

اس کے مقابلے میں سنہ 2007 میں جہاں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں نو سو پچاس افغان ہلاک ہوئے وہیں نیٹو اور امریکی فوج کے فضائی حملوں میں مارے جانے والوں کی تعداد کم از کم تین سو اکیس تک جا پہنچی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سنہ 2008 کے ابتدائی سات ماہ میں بھی ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک سو انیس افغان باشندے اتحادی فوج کے فضائی حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان ہلاکتوں کے لیے وہ شدت پسند بھی ذمہ دار ہیں جو عام شہریوں کو بطور ’انسانی ڈھال‘ استعمال کرتے ہیں اور دیہاتوں میں اپنے ٹھکانے بناتے ہیں۔

تاہم تنظیم کے ڈائریکٹر برائے ایشیا بریڈ ایڈمز نے رپورٹ کے ہمراہ جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بین الاقوامی اور خصوصاً امریکی فوج کو’ان غلطیوں پر قابو پانا ہوگا جن کی وجہ سے اتنے زیادہ عام شہری مارے جا رہے ہیں‘۔

 سنہ 2008 کے ابتدائی سات ماہ میں بھی ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک سو انیس افغان باشندے اتحادی فوج کے فضائی حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ

بریڈ ایڈمز کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی اور نیٹو افواج کی ان غلطیوں کی وجہ سے افغان حکومت کے لیے عوامی حمایت میں بہت کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’شہریوں کی ہلاکتیں نہ صرف طالبان کی نئے کارکن بھرتی کرنے کی مہم کو تقویت بخشتی ہیں بلکہ اس سے بین الاقوامی فوج کی جانب سے افغان عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے دعوے کو بھی دھچکا لگتا ہے‘۔

یاد رہے کہ ہیومن رائٹس واچ کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دو ہفتے قبل ہی افغان حکومت اور اقوامِ متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم نے کہا تھا کہ صوبہ ہرات میں امریکی فوج کی فضائی کارروائی میں نوے سے زائد دیہاتی ہلاک ہوئے جبکہ امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی میں سات شہری ہلاک ہوئے تھے۔

امریکی حکام نے ابتداء میں تو اقوامِ متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کو رد کر دیا تھا تاہم جائے وقوعہ کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد معاملے کی تحقیقات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسی بارے میں
ایساف پر نظرثانی ضروری
26 August, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد