ایساف پر نظرثانی ضروری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حال ہی میں امریکی فوج کی بمباری سے نوے شہریوں کی ہلاکت کے بعد افغان حکومت نے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی فوجوں کی افغانستان میں موجودگی کی شرائط پر نظرثانی کرنا چاہتی ہے۔ افغان کابینہ کا کہنا ہے کہ اس نظر ثانی کا مقصد بین الاقوامی فوج کی اتھارٹی اور ذمہ داری کو محدود کرنا ہے اور یہ مطالبے کرنا ہے کہ شہریوں پر حملے اور غیر قانونی چھاپوں کو روکا جائے۔ بی بی سی کے مارٹن پیشنس کا کہنا ہے کہ کابینہ کی یہ قرارداد حالیہ شہریوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے منظور کی گئی ہے۔ لیکن ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ محض سیاسی چال ہے یا واقع حکومت اس سلسلے میں سنجیدہ ہے۔ لیکن اس قرارداد کی وجہ سے یقینی طور پر افغان حکومت اور بین الاقوامی فوج کے تعلقات خراب ہوں گے۔ واضح رہے کہ چند ماہ سے بین الاقوامی فوجوں کے ہاتھوں شہری ہلاکتوں پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اور ہوائی حملوں میں شہری ہلاکتوں کی وجہ سے افغان صدر حامد کرزئی دو سینیئر فوجی کمانڈروں کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔ حامد کرزئی نے اس سے قبل بھی امریکی فوج پر یکہ طرفہ طور پر کارروائیاں کرنے پر تنقید کی تھی۔ تاہم بعد میں انہوں نے یہ تاثر دیا کہ افغان فوج بھی شہری ہلاکتوں کی ذمہ وار ہے۔ دوسری طرف اٹلی، جس کے چوبیس سو فوجی افغانستان میں موجود ہیں، کے وزیر خارجہ نے کہا ’بین الاقوامی فوج کی شرائط پر نظرثانی کا مطلب پیچھے ہٹنا نہیں بلکہ اس ملک میں موجود فوج کو مختلف طریقے سے استعمال کرنا ہے۔‘ نیٹو کی ترجمان کا کہنا ہے کہ نیٹو کو حکومت کی قراراداد کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا۔ ’نیٹو کو حکومتِ افغانستان نے مطلع نہیں کیا۔ ایساف اقوام متحدہ کے مینڈیٹ سے افغانستان میں ہے جس کو افغان حکومت نے طلب کیا ہے۔‘ | اسی بارے میں افغانستان: اکانوے عام شہری ہلاک22 August, 2008 | آس پاس افغانستان میں پانچ نیٹو فوجی ہلاک01 August, 2008 | آس پاس نیٹو بمباری سے’درجنوں ہلاک‘17 July, 2008 | آس پاس شادی کی تقریب پر امریکی بمباری14 July, 2008 | آس پاس نو امریکی فوجی ہلاک13 July, 2008 | آس پاس امریکی حملہ، نشانہ بنے بچے، عورتیں11 July, 2008 | آس پاس افغان شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش10 July, 2008 | آس پاس بھارتی سفارتخانے پر حملہ، 40 ہلاک07 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||