امریکی حملہ، نشانہ بنے بچے، عورتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں حکومت کی طرف سے مقرر کی گئی ایک تفتیشی ٹیم نے کہا ہے کہ مشرقی افغانستان میں اتوار کو ہونے والے امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد سینتالیس تھی جن میں انتالیس خواتین اور بچے شامل ہیں۔ تفتیشی ٹیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ننگرہار میں بھی بِیس لوگ امریکی حملے میں مارے گئے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے جنگجو تھے جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ لوگ ایک شادی میں مہمان تھے۔
صدر کرزئی نے اتوار کو ہونے والے حملے کی تفتیش کے لیے ایک نو رکنی کمیشن قائم کیا تھا۔ کمیشن کے سربراہ سینیٹ کے ڈپٹی سپیکر برہان اللہ شنواری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہماری تفتیش کے مطابق امریکی بمباری میں سینتالیس شہری ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔ ان میں انتالیس خواتین اور بچے تھے جبکہ باقی آٹھ لوگوں کی عمریں چودہ اور اٹھارہ سال کے درمیان تھیں‘۔ امریکہ کی قیادت میں اتحادی فوج کی ترجمان لیفٹیننٹ رومی نیلسن گرین نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ بھی اس واقع کی تفتیش کر رہے ہیں اور انہیں شہریوں کی ہلاکت پر افسوس ہے۔ ’ہم غیر عسکری لوگوں کو نشانہ نہیں بناتے۔ ہم پوری کوشش کرتے ہیں کے شہریوں کا جانی نقصان نہ ہو‘۔ | اسی بارے میں افغانستان: ہلاکتیں، متضاد اطلاعات05 July, 2008 | آس پاس ’امریکی بمباری، 22 شہری ہلاک‘06 July, 2008 | آس پاس ’امداد افغان تعمیرِ نو پر خرچ کریں‘06 July, 2008 | آس پاس طالبان نے امریکی ہیلی کاپٹر مار گرایا02 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||