’امداد افغان تعمیرِ نو پر خرچ کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے ایلچی غیر ملکی امداد خرچ کرنے سے متعلق نیا منصوبہ ایک ایسے وقت میں پیش کرنے والے ہیں جب پہلے ہی ایسے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں کہ امداد کے لاکھوں کروڑوں ڈالر ضائع کیے جا چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ایلچی کائی ایڈی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ امدادی رقم افغان حکومت کے ذریعے خرچ کی جائے جس کے بدلے میں حکومت کو بدعنوانیوں کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ کائی ایڈی کا کہنا ہے کہ بہت زیادہ امدادی رقم انہی ممالک میں تنخواہوں اور سازو سامان پر خرچ کی گئی ہے جو کہ امداد دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں ہم اس امداد کی بہت زیادہ رقم افغانستان کے بجائے اپنے ہی ملک میں خرچ کرتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہماری رقم افغانستان کی تعمیرنوپر کس طرح خرچ ہو سکتی ہے‘۔ گزشتہ ماہ اسّی ممالک نے افغانستان کے لیے مزید بائیس بلین ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے اور اب ان عطیہ دینے والے ممالک اور افغان حکومت سے کہا گیا ہے کہ یہ رقم سکولوں ، دوا خانوں ، زراعت اور ضرورت مندوں کے لیے بجلی کا انتظام کرنے پر خرچ کی جائے۔ یاد رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ترقیاتی فنڈ سے کروڑوں کی رقم پہلے ہی’غائب‘ ہو چکی ہے۔ افغانستان میں زیادہ تر ممالک اپنی امدادی رقم کا بڑا حصہ حکومت یا اس ٹرسٹ کے ذریعے خرچ کرتے ہیں جو افغانستان کے بائیس ہزار اضلاع میں کام کر رہا ہے۔ افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے ایلچی کا کہنا ہے کہ مزید رقم اسی طرح استعمال کی جانی چاہیے۔ اتوار کو کابل میں وہ اسی منصوبے پر روشنی ڈالتے ہوئے عطیہ دینے والوں سے کہیں گے کہ وہ ترقیاتی کاموں کو مزید مؤثر انداز میں کرنے کے لیے تعاون بڑھائیں۔ | اسی بارے میں ’ایران پر پابندیوں کامطالبہ کروں گا‘16 June, 2008 | آس پاس طالبان کے خلاف کارروائی کا آغاز 18 June, 2008 | آس پاس افغانستان: خودکش حملہ، 6 ہلاک20 June, 2008 | آس پاس افغانستان :پانچ فوجی ہلاک22 June, 2008 | آس پاس طالبان حملوں میں اضافہ ممکن:امریکہ28 June, 2008 | آس پاس طالبان نے امریکی ہیلی کاپٹر مار گرایا02 July, 2008 | آس پاس قندھار:چوکی پر حملہ، آٹھ ہلاک04 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||