BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 June, 2008, 07:35 GMT 12:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان کے خلاف کارروائی کا آغاز
نیٹو کے ترجمان نے کارروائی کا زیادہ تفصیل نہیں بتائی البتہ یہ کہا ہے کہ اب تک کسی طرف سے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں
نیٹو اور افغان افواج نے افغانستان کے جنوبی شہر قندھار کے مضافات سے طالبان مزاحمت کاروں کو باہر نکالنے کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔

علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق نیٹو افواج اور طالبان مزاحمت کاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں اور فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

نیٹو کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ طالبان کے خلاف کارروائی کی سالاری افغان فوجی کر رہے ہیں جنہیں کینیڈا کے فوجی دستے کی مدد حاصل ہے۔

اس کارروائی سے قبل قندھار شہر کے قریب ارغنداب کے ضلع سے سینکڑوں کی تعداد میں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

نیٹو ترجمان مارک لیئٹی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس کارروائی میں کافی تعداد میں فوجی حصہ لے رہے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا ’چوں کہ طالبان مزاحمت کاروں کے خلاف کارروائی جاری ہے لہذا ہم زیادہ تفصیل نہیں بتا سکتے۔‘

ادھر قندھار شہر کے قریبی شہروں میں رہنے والے لوگوں اور حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں ضلع ارغنداب سے سینکڑوں خاندانوں نے نقل مکانی کی ہے۔

جمعہ کو شہر کی جیل سے ساڑھے تین سو طالبان جنگجو فرار ہو گئے تھے۔

افغان اور نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ باغیوں کی جانب سے کسی بھی مملکنہ خطرے کے پیش نظر فوجی نفری کو مزید بڑھایا جا رہا ہے۔

ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ جیل سے فرار ہونے والے طالبان جنگجو بھی پیر کے روز دیہاتوں پر قبضہ کرنے والے طالبان میں شامل ہیں یا نہیں۔

افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان جنرل ظاہر عظیمی نے بی بی سی کو بتایا ہے

لوگوں کو جانے کا مشورہ
 نیٹو ہیلی کاپٹر دیہاتوں پر ایسے اشتہار گرا رہے ہیں جن میں لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ آپریشن سے پہلے علاقے سے چلے جائیں
جنرل ظاہر عظیمی
کہ ’طالبان اپنے ٹھکانے مسلسل تبدیل کرتے رہتے ہیں اور کسی جگہ بھی زیادہ وقت نہیں رکتے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس کے علاوہ انہوں کچھ پل بھی اڑا دیے ہیں لیکن ہم انہیں ہر جگہ تلاش کر رہے ہیں‘۔

اطلاعات کے مطابق نیٹو ہیلی کاپٹر دیہاتوں پر ایسے اشتہار گرا رہے ہیں جن میں لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ آپریشن سے پہلے علاقے سے چلے جائیں۔

اسی بارے میں
افغانستان: سردی سے200 ہلاک
18 January, 2008 | آس پاس
کابل میں خودکش حملہ
31 January, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد