BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 January, 2008, 12:44 GMT 17:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پوست کی جڑیں عدم تحفظ و بدعنوانی

پوست کی کاشت
پوست کی کاشت کے علاوہ ان کا ذریعہ آمدن نہیں ہے۔
افغانستان کے ہلمند صوبے میں پوست کی پنیری نکل آئی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سال بھی ریکارڈ فصل ہو گی۔

اس مرتبہ کسانوں نے زائد علاقے پر پوست کی کاشت کی ہے۔ دوسری جانب طالبان کے ساتھ مسلح تصادم جاری ہونے کے باعث برطانوی انسداد منشیات کی روک تھام کی ٹیم افغانستان کے جنوب میں کوئی خاطر خواہ کام نہیں کر سکی ہے۔

کسانوں کا یہ خاندانی پیشہ ہے اور ان کے مطابق اس کے علاوہ ان کا کوئی اور ذریعہ آمدن نہیں ہے۔

ایک کسان نے غصے سے کہا ’میرے پاس چھوٹی سی زمین ہے اور دس افراد کا خاندان ہے۔‘

انہوں نے کہا ’اس زمین پر اناج میرے خاندان کے لیے صرف دو مہینے چلے گا اس لیے اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے پوست کی کاشت کرنی پڑتی ہے۔‘

یہاں کی زمین بڑی زرخیز ہے لیکن پانی دینے کے لیے پمپ کا تیل مہنگا ہے اور اس کے علاوہ نہ تو خریدار ہے اور نہ ہی بنیادی ڈھانچہ موجود ہے۔

ایک اور کسان کی پوست کی کاشت کو پچھلے سال ضائع کر دیا گیا تھا لیکن وہ اس سال دوبارہ کوشش کرے گا۔ ’میں پوست کی کاشت دوبارہ کروں گا۔ جب امیر اور طاقتور افراد اُگا سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں۔‘

عدم تحفظ سب سے بڑی وجہ ہے لیکن امن و امان کی صورتحال اور بدعنوانی بھی ہلمند کے سب سے بڑے مسائل ہیں۔

یہاں پر پوست کی کاشت کا خاتمہ کرنے والی ایک ٹیم ہے جو مہینوں لگا کر کاشت کو ختم کرتی ہے لیکن امیر اور طاقتور افراد ان کو رشوت دے کر اپنی کاشت بچا لیتے ہیں۔

برطانوی انسداد منشیات کی روک تھام کی ٹیم کے سربراہ ڈیوڈ بیلگروو کا کہنا ہے کہ عدم تحفظ کے احساس اور پوست کی کاشت میں اضافے کا براہ راست تعلق ہے۔

’پوست کی کاشت ختم کرنے کے لیے صرف ٹیموں کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے لیے ان لوگوں کو متبادل ذریعۂ معاش، مارکیٹ تک رسائی، بنیادی ڈھانچہ اور تعلیم تک رسائی کی ضرورت ہے۔‘

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات اور جرائم کے مطابق افغانستان کے چونتیس میں سے تیرہ صوبوں میں پوست کی کاشت نہیں ہوئیہے۔ وہ امید کرتے ہیں کہ ترقیاتی بجٹ کی لالچ میں دیگر صوبوں کے گورنر بھی پوست کی کاشت ختم کردیں گے۔

ان صوبوں میں ازنکستان کے بارڈر کے پاس بلخ صوبہ ہے۔ یہاں مزار شریف کافی حد تک محفوظ ہے۔ اس صوبے کے گورنر عطا نے پوست کی کاشت کا خاتمے کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے ’ہر کامیابی کا انحصار اچھی قیادت اور مضبوط انتظامیہ پر ہوتا ہے۔‘

 میرے اور تمہارے جیسے لوگ منشیات باہر نہیں لے کر جا سکتے۔ یہ صرف غیر ملکی اور طاقتور لوگ جن کے تعلقات ہوتے ہیں وہی لے کر جا سکتے ہیں
ایک سمگلر

انہوں نے کتابچے بھی بنائے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے کامیابی کس طرح حاصل کی۔

لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ سمگلنگ ابھی تک جاری ہے۔ منشیات کے ایک سمگلر نے ہمیں مائع افیون دکھائی۔ یہ ملین ڈالرز کا کاروبار ہے اور منشیات شمالی بلخ سے وسط ایشیا یا پھر مغرب سے ایران جاتی ہیں۔

سمگلر نے کہا ’میرے اور تمہارے جیسے لوگ منشیات باہر نہیں لے کر جا سکتے۔ یہ صرف غیر ملکی اور طاقتور لوگ جن کے تعلقات ہوتے ہیں وہی لے کر جا سکتے ہیں۔‘

اس بات پر گورنر ہنس دیے اور کہا کہ یہ ان کے خلاف پروپیگنڈہ ہے۔

منشیات نظرِ آتش
افغانستان میں ساٹھ ٹن منشیات کو جلادیا گیا
پوست کی طلب
افغانستان کی پیداوار کی یورپ میں مانگ
پوست کی کاشت پوست کی کاشت
طالبان پر پیسوں کیلیے پوست کی کاشت کا الزام
افیون ایک پنتھ دو کاج
طالبان کے ساتھ ساتھ منشیات کا بھی انسداد
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد