افغانستان: سا ٹھ ٹن منشیات نذر آتش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں حکام نے کہا ہے کہ انھوں نے سا ٹھ ٹن سے زائد غیر قانونی منشیات کو جلایا ہے۔ حکام کے مطابق منشیات جلانے کا عمل افغانستان سےمنشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کی سنجیدہ کوششوں کا ایک مظاہرہ ہے۔ ملک کے آٹھ مقامات پر منشیات کے ڈھیرجلا ئےگئے۔سب سے بڑا ڈھیر دارالحکومت کابل میں نذر آتش کیا گیا۔ ایک اندازے کےمطابق دوہزار چار میں دنیا کی کل افیون کا نوے فیصد افغانستان میں کاشت کیا گیا۔ پاکستان میں بھی حکام نے کراچی میں ایک آپریشن کے دوران چھبیس ٹن منشیات کو نذر آتش کیا۔ افغان صدر حامد کرزئی نے اس سال پوست کی کاشت میں ریکارڈ کمی کی پیشن گوئی کی تھی جوافیون کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایک سرکاری پریس ریلیز کے مطابق اتوار کو کابل میں پکڑی گئی تیس ٹن منشیات کے ڈھیر کو شہر سے باہر جلایا گیا۔ جلائے جانے والی منشیات میں تیرہ ٹن افیون، نو ٹن حشیش، دوٹن ہیروئن اور چھ ٹن دوسری منشیات تھیں۔ یہ سلسلہ دراصل اقوام متحدہ کےمنشیات کے استعمال اور اس کی اسمگلنگ کے خلاف بین الاقوامی دن کو منانے کے مظاہر کے طور پرتھا۔ وزیر داخلہ علی احمد جلالی نے کہا کہ منشیات ہمارے بچوں کے ہاتھوں یا یورپ کی گلیوں میں اب کبھی نظر نہیں آئے گی۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور حکام کو اس سلسلے میں تربیت بھی فراہم کی گئی ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے اپنے حالیہ دورہ واشنگٹن کے دوران افیون کی کاشت میں تیس فیصد تک کمی کا وعدہ کیاتھا۔ لیکن خفیہ امریکی دستاویزات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغان حکومت منشیات کی اسمگلنگ پر قابو میں ناکام رہی ہے۔ امریکہ نے اس حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ اگر افغانستان نے منشیات کی اسمگلنگ پر قابو نہ پایا تو وہ ایک’نارکو اسٹیٹ‘ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے حکام نے بھی پکڑی جانے والی حشیش، افیون اور ہیروئن کے ایک ذخیرے کو کراچی کے ساحل پر آگ لگائی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ افغانستان سے براستہ پاکستان مغربی ممالک میں منشیات کی اسمگلنگ بڑھتی جا رہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||