BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 February, 2008, 12:17 GMT 17:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جرمنی: مزید فوج بھیجنے سے انکار
افغانستان
جرمن وزیر دفاع حال ہی میں افغانستان گئے تھے
جرمنی نے افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے سخت الفاظ میں جرمنی سے جنوبی افغانستان میں فوج بھیجنے کی اپیل کی تھی۔

لیکن ان کے جرمن ہم منصب فرانس جوسف جنگ نے خطے میں مزید جرمن فوج کی تعیناتی کو مسترد کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان کے جنوبی علاقے میں طالبان کافی سرگرم ہیں۔

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کا کہنا تھا کہ \اگر ہم اپنی طاقت نہیں بڑھائيں گے تو نیٹو افواج افغانستان میں اپنی ساکھ کھو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی نیا مینڈیٹ یا ہدایت جاری کرنے کے بارے میں غور کرے جس سے مزید ہزاروں فوجیں کی تعیناتی ممکن ہو سکے۔

لیکن جرمنی نے امریکی وزیر دفاع کی تجویز کو سختی سے رد کر دیا ہے۔ جرمن وزیر دفاع مسٹر جنگ نے نہ صرف امریکہ کی افغانستان کے حساس علاقے میں مزید فوج کی تعیناتی کی اپیل کو مسترد کر دیا بلکہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جرمنی کم حساس علاقوں میں اپنی فوج کی تعیناتی کے بارے میں بھی اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کر رہا ہے۔

جمعہ کو فرانس جوسف جنگ نے کہا کہ ’ ہم نے اپنے کام کی ذمےداری آپس میں تقسیم کر لی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ ہمیں شمالی علاقے پر زیادہ توجہ دینا چاہیے۔‘

فی الوقت جرمنی کے 3200 فوجی شمالی افغانستان اور دارالحکومت کابل کے نواحی علاقوں میں تعینات ہیں۔

اب تک بیشتر نیٹو ممالک نے جنوبی افغانستان میں مزید افواج بھیجنے سے انکار کیا ہے

تازہ پارلیمانی مینڈیٹ کے مطابق نیٹو کی انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورسسز کے چالیس ہزار فوجیوں میں تین ہزار پانچ سو جرمنی فوجی بھیجے جا سکتے ہیں۔ جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس مینڈیٹ کے سلسلے میں کوئی بحث کی گنجائش نہیں ہے۔

ادھر جرمنی کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ ارنسٹ اہرلاؤ نے آگاہ کیا ہے کہ افغانستان میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

امریکہ کی وزیر خارجہ کانڈولیزا رائس اگلے ہفتے برطانیہ کے دورے پر جا رہی ہیں جہاں وہ وزیر اعظم گورڈن براؤن اور وزیرخارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ سے ملاقات کريں گی۔ امکانات ہیں کہ افغانستان میں نیٹو افواج کے کردار ایجنڈہ کا اہم موضوع رہے گا۔

اب تک بیشتر نیٹو ممالک نے جنوبی افغانستان میں مزید افواج بھیجنے سے انکار کیا ہے۔

کینیڈا کے وزير اعظم سٹیفن ہارپر نے امریکہ اور برطانیہ کو الٹی میٹم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک دیگر نیٹو ممالک مزید فوج نہیں بھیجتے کینیڈا جنوبی افغانستان جیسے خطرناک علاقے میں کارروائی بند کر دے گا۔

اسی بارے میں
افغانستان: سردی سے200 ہلاک
18 January, 2008 | آس پاس
کابل میں خودکش حملہ
31 January, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد