جرمنی: مزید فوج بھیجنے سے انکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی نے افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے سخت الفاظ میں جرمنی سے جنوبی افغانستان میں فوج بھیجنے کی اپیل کی تھی۔ لیکن ان کے جرمن ہم منصب فرانس جوسف جنگ نے خطے میں مزید جرمن فوج کی تعیناتی کو مسترد کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان کے جنوبی علاقے میں طالبان کافی سرگرم ہیں۔ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کا کہنا تھا کہ \اگر ہم اپنی طاقت نہیں بڑھائيں گے تو نیٹو افواج افغانستان میں اپنی ساکھ کھو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی نیا مینڈیٹ یا ہدایت جاری کرنے کے بارے میں غور کرے جس سے مزید ہزاروں فوجیں کی تعیناتی ممکن ہو سکے۔ لیکن جرمنی نے امریکی وزیر دفاع کی تجویز کو سختی سے رد کر دیا ہے۔ جرمن وزیر دفاع مسٹر جنگ نے نہ صرف امریکہ کی افغانستان کے حساس علاقے میں مزید فوج کی تعیناتی کی اپیل کو مسترد کر دیا بلکہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جرمنی کم حساس علاقوں میں اپنی فوج کی تعیناتی کے بارے میں بھی اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کر رہا ہے۔ جمعہ کو فرانس جوسف جنگ نے کہا کہ ’ ہم نے اپنے کام کی ذمےداری آپس میں تقسیم کر لی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ ہمیں شمالی علاقے پر زیادہ توجہ دینا چاہیے۔‘ فی الوقت جرمنی کے 3200 فوجی شمالی افغانستان اور دارالحکومت کابل کے نواحی علاقوں میں تعینات ہیں۔
تازہ پارلیمانی مینڈیٹ کے مطابق نیٹو کی انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورسسز کے چالیس ہزار فوجیوں میں تین ہزار پانچ سو جرمنی فوجی بھیجے جا سکتے ہیں۔ جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس مینڈیٹ کے سلسلے میں کوئی بحث کی گنجائش نہیں ہے۔ ادھر جرمنی کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ ارنسٹ اہرلاؤ نے آگاہ کیا ہے کہ افغانستان میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کی وزیر خارجہ کانڈولیزا رائس اگلے ہفتے برطانیہ کے دورے پر جا رہی ہیں جہاں وہ وزیر اعظم گورڈن براؤن اور وزیرخارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ سے ملاقات کريں گی۔ امکانات ہیں کہ افغانستان میں نیٹو افواج کے کردار ایجنڈہ کا اہم موضوع رہے گا۔ اب تک بیشتر نیٹو ممالک نے جنوبی افغانستان میں مزید افواج بھیجنے سے انکار کیا ہے۔ کینیڈا کے وزير اعظم سٹیفن ہارپر نے امریکہ اور برطانیہ کو الٹی میٹم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک دیگر نیٹو ممالک مزید فوج نہیں بھیجتے کینیڈا جنوبی افغانستان جیسے خطرناک علاقے میں کارروائی بند کر دے گا۔ | اسی بارے میں ’نیٹو افغان جنگ ہار بھی سکتی ہے‘19 January, 2008 | آس پاس افغانستان: سردی سے200 ہلاک18 January, 2008 | آس پاس پوست کی جڑیں عدم تحفظ و بدعنوانی24 January, 2008 | آس پاس ہلمند حملہ، نائب گورنر ہلاک31 January, 2008 | آس پاس افغان سینیٹرز سزائے موت کے حامی نہیں31 January, 2008 | آس پاس کابل میں خودکش حملہ31 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||