افغانستان: سردی سے200 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے حکومتی ذرائع کے مطابق ملک میں سردی کی لہر میں دو سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے چار بڑے مغربی صوبے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جہاں انسانی ہلاکتوں کے علاوہ ہزارہا مویشی بھی مر گئے ہیں۔ ان علاقوں میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسی سردی گزشتہ دس برسوں میں نہیں پڑی۔ افغانستان کے پڑوسی ممالک بھی سردی کی اس لہر کا نشانہ بنے ہیں۔ مغربی صوبوں میں لوگوں کی حالت سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں اتنی زیادہ برفباری اور درجہ حرارت میں اتنی زیادہ کمی کی توقع نہیں تھی۔ ہلاک ہونے والے دو سو افراد میں سے زیادہ تر تعداد مویشی پالنے والے تھے، تاہم ان میں کچھ عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ افغانستان کا زیادہ تر مغربی حصہ سطح سمندر سے زیادہ بلند نہیں ہے اور بین الاقوامی ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ یہاں لوگوں کی اکثریت کو ایک دو دن کی برفباری سے زیادہ کی توقع نہیں تھی۔ ان علاقوں میں زیادہ تر لوگوں کا ذریعہ معاش مال مویشی پالنا ہے اور ہزارہا بھیڑوں کی ہلاکت سے وہ بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔ متاثرہ علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمان نے بی بی سی کو بتایا کہ برفباری کے باعث کئی دیہات مکمل طور کٹ کے رہ گئے ہیں اور وہاں خوراک اور ادویات کی ضرورت ہے۔ دارالحکومت کابل میں بھی سردی بڑھ رہی ہے اور یہاں ہلمند سے آئے ہوئے پناہ گزین سڑکوں پر خیمے لگا کر گزارہ کر رہے ہیں اور ان کا گزر بسر امدای خوراک اور کپڑوں پر ہے۔ حکام کے مطابق ملک بھر میں طبی عملے کو انتباہ کر دیا گیا ہے کہ سردی کی شدید لہر میں سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ | اسی بارے میں کابل ہوٹل حملہ، ایک گرفتار16 January, 2008 | آس پاس افغانستان میں مزید امریکی فوج16 January, 2008 | آس پاس شمالی کرہ میں گرم ترین موسمِ سرما16 March, 2007 | آس پاس ’افغانستان سے نکل جانے کا حکم ‘26 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||