’افغانستان سے نکل جانے کا حکم ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کی حکومت نے اقوام متحدہ اور یورپین یونین کے دو اعلی عہدیداروں کو اڑتالیس گھنٹوں کے اندر ملک سے نکل جانے کا کہا ہے۔ ایک عہدیدار کا تعلق برطانیہ جبکہ دوسرے کا تعلق آئرلینڈ سے ہے۔دونوں اعلی عہدیدار افغانستان کے صوبے ہلمند میں تعینات تھے اور افغانستان کے قبائل کے لوگوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان عہدیداروں نے شاید طالبان سے بھی بات چیت کی تھی۔ افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان ہمایوں حمیدزادہ نے کہا ہے کہ دو غیر ملکوں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا گیا ہے اور ان کو ملک چھوڑنے کا کہا گیا ہے جبکہ ان کے مقامی ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ افغان صدر کے ترجمان نے کہا کہ یہ عہدیدار ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھے جو ان کے دائرہ اختیار میں نہیں تھیں۔ اقوام متحدہ اور یورپی یونین افغانستان کےصوبے ہلمند میں پوست کی کاشت کو ختم کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کی حکومت کا فیصلہ تسلیم کریں گے لیکن وہ افغان حکومت کی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کا فیصلہ غلط فہمی کا نتیجہ ہے اور وہ کوشش کریں گے کہ غلط فہمی دور ہو جائے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان علیم صدیقی نے کہا کہ وہ افغان حکام پر حقائق واضح کر رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ ہلمند میں اقوام متحدہ کا عملہ کام کرتا رہے گا۔ کابل میں بی بی سی کے نمائندے ایلسٹر لیتھیڈ کا کہنا ہے کہ ناپسندیدہ قرار دیئے جانے والے ایک عہدیدار افغانستان میں یورپین یونین مشن کے قائم مقام سربراہ ہیں اور وہ افغانستان میں زمینی حقائق جاننے کے لیے مختلف گرہوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مختلف گروہوں سے بات چیت کو طالبان کی حمایت سے نہ تعبیر کیا جائے۔ | اسی بارے میں ’افغانستان کوطالبان سے خطرہ‘22 December, 2007 | آس پاس کابل: راکٹ حملہ، پانچ ہلاک 15 December, 2007 | آس پاس موسیٰ قلعہ پر طالبان کا قبضہ ختم11 December, 2007 | آس پاس افغانیوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے04 December, 2007 | آس پاس افغان فوج تین گنا بڑھ جائے گی03 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||