افغانیوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کی موجودہ صورتحال کے متعلق بی بی سی کے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ لوگوں کے لیے سلامتی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن جن لوگوں نے اس میں حصہ لیا ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ معاملات غلط سمت میں جا رہے ہیں اور ان کے لیے اقتصادی ترقی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے کابل کی آبادی میں چارگنا اضافہ ہوا ہے اور ملک میں روزی روٹی، ملازمت اور صاف پانی جیسے بنیادی مسائل آج بھی بر قرار ہیں۔ ہر روز ٹی وی پر اعلان کیا جاتا ہے کہ بیماریوں سے بچنے کے لیے پانی ابال کر پیا جائے لیکن صاف پانی کے لیے حکومت کچھ نہیں کر رہی ہے۔ اس کے پاس یہ بہانہ بھی نہیں ہے کہ بغداد کہ طرح شدت پسند بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اربوں ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں لیکن بجلی پانی اور روزگار کا مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے اسی لیے ان لوگوں کے لیے حمایت میں بھی کمی آرہی ہے جو افغانستان کو طالبان سے آزاد کرانے آئے تھے۔ رکن پارلیمان شکریہ بارکزئی کہتی ہیں کہ مشکل یہ ہے کہ عالمی برادری اور اور عطیہ دینے والی تنظیمیں یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ افغانستان کو کیا چاہیے۔’ عطیہ دینے والے عالمی کمپنیوں کو ہی معاہدہ دیتے ہیں تو پھر پرائیوٹ سیکٹر اپنا کام کیسے کرسکتا ہے۔‘ سروے کے مطابق سکولوں اور شعبہ صحت میں کچھ بہتری آئی ہے لیکن مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ اس سے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا۔ تقریباً ایک تہائی آبادی کو تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بیرونی افواج سے بھی طالبان سے کم عام شہری ہلاک نہیں ہوئے ہیں۔افغانستان میں نیٹو افواج کی غیر مقبولیت کی ایک بڑی وجہ عام شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتیں بھی ہیں۔ اس سروے کے مطابق ملک میں طالبان کے حامی بھی کم ہیں لیکن ان کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے اور جنوب مغربی علاقوں میں اس حمایت میں اور اضافہ ہورہا ہے۔ بہت سے لوگ جو طالبان کے حامی ہیں وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں آخر حکومت اور بیرونی افواج ہار مانتے ہیں یا نہیں۔ جنوب مغربی علاقہ جہاں زبردست صف آرائی ہوتی رہتی ہے وہاں کے بیشتر علاقے کھنڈرات میں بدل چکے ہیں۔ وہاں لوگ بڑی تعداد میں بےگھر ہیں اور کھانے کے لیے عطیات پر منحصر ہیں۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس بات میں فرق کرنا جانتے ہیں کہ کونسا ملک افغانستان پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ تشدد کے لیے مدد کرنے کی وجوہات کے سبب پاکستان کے تئیں بیشتر کا رویہ منفی تھا۔ جن ممالک کی افواج ہیں ان میں برطانیہ سب سے زیادہ غیر مقبول ملک ہے۔
بیشتر لوگ مسائل کے حل کے لیے طالبان سے بات چیت کے حق میں ہیں اور مغربی افسران نے اس سمت میں کوششیں بھی شروع کی ہیں۔ مغربی ممالک کو احساس ہے کہ افغانستان میں جس طرز کی جمہوریت کو نافذ کیا گیا ہے اس کے خاطر خواہ نتائج نہیں نکلے ہیں۔ وہ اب روایتی قائدین کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس دوران مغربی اتحادیوں میں یہ رجحان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ لڑائی جتنی جلدی ممکن ہو وہ افغانی فوجیوں کے حوالے کر دیں۔ اس برس کے آخر تک تقریباً ستّر ہزار افغانی فوج تیار ہوجائےگی۔ لیکن شعبہ پولیس میں اصلاحات بہت سست رفتار ہیں۔ سروے کے مطابق ملک میں سب سے زیادہ بد عنوان پولیس ہے۔ سروے میں عراق کے بر عکس افغانی باشندے اپنے اور اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقل کے لیے زیادہ پر امید ہیں اور انہیں یقین ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ایک نا ایک دن تعمیر نو کا کام ہوگا لیکن ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اکثریت ان کی ہے جن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ تازہ سروے افغانی صدر حامد کرزئی کی حکومت اور عالم برادری کے لیے بہت زیادہ مایوس کن نہیں ہیں لیکن دونوں ہی کی حمایت تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے اور اب وقت بھی بہت کم بچا ہے۔ | اسی بارے میں بیشتر خودکش بمبار پاکستان سے: یو این08 September, 2007 | آس پاس جنگ کیلیے مزید 46 بلین ڈالر: بش23 October, 2007 | آس پاس افغانستان میں تین روز کا سوگ08 November, 2007 | آس پاس چھ امریکی، تین افغان فوجی ہلاک10 November, 2007 | آس پاس ’جنگی اخراجات، ڈیڑھ کھرب ڈالر‘14 November, 2007 | آس پاس آدھی ہلاکتیں غیر ملکیوں کےہاتھوں 21 November, 2007 | آس پاس افغانستان: خود کش حملہ، آٹھ ہلاک24 November, 2007 | آس پاس افغان فوج تین گنا بڑھ جائے گی03 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||