چھ امریکی، تین افغان فوجی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرقی افغانستان میں نیٹو افواج کے چھ اور افغان فوج کے تین جوان ایک مڈبھیڑ میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ جمعہ کو نورستان صوبے میں اس وقت پیش آیا جب نیٹو اور افغان فوجیوں کی ایک ٹیم مشترکہ گشت پر نکلی ہوئی تھی۔ حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔ عسکریت پسندوں نے چھوٹے ہتھیاروں اور راکٹ سے داغے جانےوالے گرینیڈز سے گشتی پارٹی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں نیٹو افواج کے آٹھ اور افغان فوج کے گیارہ اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ نیٹو عہدیداران نے مارے جانے والے فوجیوں کی قومیت بتانے سے انکار کر دیا ہے لیکن خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ایک امریکی فوجی ترجمان کے مطابق یہ امریکی فوجی تھے۔
ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ڈیوڈ اسیٹا نےکہا کہ یہ فوجی مقامی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد لوٹ رہے تھے کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ مشرقی افغانستان میں زیادہ تر امریکی فوجی ہی تعینات ہیں۔ سن دو ہزار میں طالبان کی حکومت کا تختہ پلٹے جانے کے بعد سے اب تک اس سال امریکی افواج کو سب سے زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اس کے پچانوے فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں طالبان کی مزاحمت میں تیزی آئی ہے۔ فی الحال امریکہ میں پچاس ہزار سے زیادہ غیر ملکی فوجی تعینات ہیں۔ ان میں سے چالیس ہزار نیٹو کی بین الاقوامی فورس کے پرچم تلے ہیں جبکہ باقی ایک اتحاد کی شکل میں امریکی کمان میں لڑ رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’سول ہلاکتوں کے ذمہ دار طالبان ہیں‘10 August, 2007 | آس پاس چالیس طالبان مارنے کا دعویٰ06 September, 2007 | آس پاس کابل: امریکی فوجی ہلاک06 October, 2007 | آس پاس نیٹو اجلاس میں وزراء کی مشکلات24 October, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||