افیون کی کھیتی کا ریڈیو اشتہار بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں نيٹو کی فوج نےکہا ہے کہ انہوں نے ایک ریڈیو اسٹیشن سے وہ اشتہار واپس لے لیا ہے جس سے افیون کی کھیتی کو منظوری دینے کی طرف اشارے مل رہے تھے۔ نيٹو کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس اشتہار میں کچھ بھی واضح طور پر نہیں کہاگياتھا۔ نيٹو کی جانب سے یہ فیصلہ اقوام متحدہ اور افغانستان حکومت کی ان شکایات کے نتیجے میں کیا گیا ہے جس میں کہا گيا تھا کہ نیٹواتحاد افیونکی غیر قانونی طریقے سے کی جانے والی کھیتی کو نظرانداز کر رہی ہیں۔ اشتہار میں کہاگيا تھا کہ بین الاقوامی سکیورٹی اسسٹنس فورسز (آئی ایس اے ایف) کواحساس ہے کہ افغانستان کے عوام کے لیے افیونکی کھیتی کے علاوہ آمدنی کا دوسرا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے۔ اشتہار میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں فوج افیون ختم کرنے نہیں ہے بلکہ محفوظ ماحول اور غیر ملکی دہشت گردوں کو مارنے کے لیےآئی ہے۔ اس اشتہار کے لیے آئی ایس اے ایف نے پیسے دیے تھے اور اسے ہلمند علاقہ میں نشر کیا گیا تھا۔ یہ علاقہ ملک کے جنوب میں ہے اور اس کا شمار دنیا کے سب سے بڑے افیون پیدا کرنے والے علاقہ کے طور پر ہوتا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق افغانستان میں انسداد منشیات کی وزارت کے ایک ترجمان زلمئے افضلی نے کہا ہے ’ یہ آئی ایس اے ایف کی ایک غلطی تھی‘۔ انہوں نےمزید کہا ’ہماری آئی ایس اے ایف سے یہی درخواست ہے کہ مستقبل میں اس قسم کی غلطیاں پیش نہ ہو کیوں کہ یہ افغانستان کی انسداد منشیات سے متعلق حکمت عملی کے لیے بڑے مسئلہ پیدا کرسکتی ہے‘۔ افغانستان کی حکومت کے مطابق ملک میں بیس لاکھ لوگ افیون کی کاشت کاری کرتے ہیں۔ عدادو شمار یہ بتاتے ہیں کہ افغانستان میں گزشتہ برس افیون کی کھیتی میں 49 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یعنی گزشتہ برس افغانستان میں 6700 ٹن افیونکی پیداوار ہوئی جو 670 ٹن ہیروئين بنانے کے لیے کافی ہے۔ | اسی بارے میں پوست کی کاشت، ساٹھ فیصد اضافہ03 September, 2006 | آس پاس ’طالبان پوست کی کاشت کے ذمہ دار‘ 29 May, 2006 | آس پاس افغانستان پوست کی کاشت کم27 March, 2005 | آس پاس افغانستان میں اگلا ہدف پوست18 November, 2004 | آس پاس پوست کی کاشت، تشویشناک اضافہ24 September, 2004 | آس پاس طالبان کی پالیسی ’کامیاب ترین‘19 January, 2004 | آس پاس طالبان کی پالیسی ’کامیاب ترین‘ 19 January, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||