BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 April, 2007, 15:05 GMT 20:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افیون کی کھیتی کا ریڈیو اشتہار بند
اشتہار واپس لے لیا ہے
(آئی ایس اے ایف) نے یہ سمجھا ہے کہ افغانستان کے عوام کے لیے افیون کی کھیتی کے علاوہ آمدنی کا دوسرا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے
افغانستان میں نيٹو کی فوج نےکہا ہے کہ انہوں نے ایک ریڈیو اسٹیشن سے وہ اشتہار واپس لے لیا ہے جس سے افیون کی کھیتی کو منظوری دینے کی طرف اشارے مل رہے تھے۔

نيٹو کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس اشتہار میں کچھ بھی واضح طور پر نہیں کہاگياتھا۔

نيٹو کی جانب سے یہ فیصلہ اقوام متحدہ اور افغانستان حکومت کی ان شکایات کے نتیجے میں کیا گیا ہے جس میں کہا گيا تھا کہ نیٹواتحاد افیونکی غیر قانونی طریقے سے کی جانے والی کھیتی کو نظرانداز کر رہی ہیں۔

اشتہار میں کہاگيا تھا کہ بین الاقوامی سکیورٹی اسسٹنس فورسز (آئی ایس اے ایف) کواحساس ہے کہ افغانستان کے عوام کے لیے افیونکی کھیتی کے علاوہ آمدنی کا دوسرا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے۔

اشتہار میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں فوج افیون ختم کرنے نہیں ہے بلکہ محفوظ ماحول اور غیر ملکی دہشت گردوں کو مارنے کے لیےآئی ہے۔

اس اشتہار کے لیے آئی ایس اے ایف نے پیسے دیے تھے اور اسے ہلمند علاقہ میں نشر کیا گیا تھا۔

یہ علاقہ ملک کے جنوب میں ہے اور اس کا شمار دنیا کے سب سے بڑے افیون پیدا کرنے والے علاقہ کے طور پر ہوتا ہے۔

dshda
اشتہار میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں فوج افیون کی کھیتی ختم کرنے نہیں بلکہ محفوظ ماحول اور غیر ملکی دہشت گردوں کو مارنے کے لیے ہے

خبر رساں ایجنسی اسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق افغانستان میں انسداد منشیات کی وزارت کے ایک ترجمان زلمئے افضلی نے کہا ہے ’ یہ آئی ایس اے ایف کی ایک غلطی تھی‘۔

انہوں نےمزید کہا ’ہماری آئی ایس اے ایف سے یہی درخواست ہے کہ مستقبل میں اس قسم کی غلطیاں پیش نہ ہو کیوں کہ یہ افغانستان کی انسداد منشیات سے متعلق حکمت عملی کے لیے بڑے مسئلہ پیدا کرسکتی ہے‘۔

افغانستان کی حکومت کے مطابق ملک میں بیس لاکھ لوگ افیون کی کاشت کاری کرتے ہیں۔

عدادو شمار یہ بتاتے ہیں کہ افغانستان میں گزشتہ برس افیون کی کھیتی میں 49 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یعنی گزشتہ برس افغانستان میں 6700 ٹن افیونکی پیداوار ہوئی جو 670 ٹن ہیروئين بنانے کے لیے کافی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد