نیٹو اجلاس میں وزراء کی مشکلات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیٹو رکن ممالک کے وزراء دفاع کا دو روزہ اجلاس بدھ سے ہالینڈ میں شروع ہو گیا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ نیدرلینڈ میں ہونے والے ان مذاکرات میں سب سے زیادہ اہمت کی حامل افغانستان کے لیے امریکہ کی طرف سے مزید اتحادی فوج کا مطالبہ اور ترکی۔عراق سرحد پر بڑھتی کشیدگی ہو گی۔ ان مذاکرات کے لیے اب دفاعی وزراء نیدرلینڈ کے شہر نورڈؤک میں جمع ہو رہے ہیں۔ پہلےان مذاکرات میں ترکی اور کرد جنگجوؤں کی جماعت پی کے کے کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بات چیت شامل نہیں تھی تاہم پی کے کے علیحدگی پسندوں کے شمالی عراقی اڈوں سے حملے کے بعد حالات سنگین ہوگئے ہیں۔ امریکہ اور ترکی کے حامیوں نے ان حملوں کی مزاحمت کی ہے مگر ترکی سے کہا ہے کہ علاقے کے نازک سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے وہ اپنے ردِعمل پر غور کرے ۔ شمالی عراق، جہاں کرد اقلیت کی سب سے بڑی تعداد پائی جاتی ہے، وہ واحد علاقہ ہے جہاں نسبتاً سیاسی استحکام پایا جاتا ہے۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل یاپ ڈی ہوپ شفر نے بی بی سی سے گفتگو کے دوران نیٹو افواج پر بین الاقوامی سطح پر دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ’یہ ایک جدوجہد ہے۔ ہماری فوج پر اس وقت بے حد دباؤ ہے۔ افغانستان میں جاری اقوام متحدہ کا آپریشن، یورپی یونین آپریشن، اس کے علاوہ لبنان، چاڈ، دارفور، آپ اندازہ لگائیں کہ نیٹو افواج پر کتنا دباؤ ہے لیکن اِس دباؤ کے باوجود یہ میری اور چھبیس رکن ممالک کی ذمہ داری ہے کہ ہم دنیا کی توقعات پر پورے اتریں۔‘ بی بی سی کے دفاع کے نامہ نگار روب وٹسن کا کہنا ہے کہ نیٹو فوج کی مدد سے افغانستان میں طالبان کی حکومت کوگرائے ہوئے چھ سال ہو گئے ہیں، تاہم اب یہاں پر نیٹو کے اس مشن پر بہت سے سنگین سوال اٹھ رہے ہیں۔ امریکی دفاع کے وزیر روبرٹ گیٹس نے کہا ’میں اس بات سے مطمعن نہیں ہوں۔ تمام اتحادی فوج کو ملا کر اس میں دو کروڑ فوجی ہیں جن میں بحری اور فضائی فوج بھی شامل ہیں۔ مگر پھر بھی افغانستان کی ترقی کے لیے مزید وسیلے تلاش کرنا مشکل ہے!‘ نیٹو میں اب اس بات پر اختلافِ رائے ہے کہ کس قدر فوجی جارحیت کا استمعال کیا جائے اور بعض ملکوں کی حکومتوں پر دباؤ ہے کہ وہ نیٹو کے مشن سے اپنی فوجیں واپس بلا لیں۔ مگر اب امکان ہے کہ نیٹو کے دفاعی وزراء سے مزید فوجیوں کی مانگ کی جائے گی جس کا کام لڑائی کے آپریشن میں حصہ لینا نہیں بلکہ افغان حفاظتی فورس کی تربیت کرنا ہو گا جو افغانستان سے غیر ملکی فوج کے انخلا کے لیے حکمت عملی کا ایک حصہ ہے۔ | اسی بارے میں افغان بارودی سرنگوں کی زد میں04 April, 2006 | صفحۂ اول وزیرستان معاہدہ: طالبان کی دھمکی17 September, 2006 | صفحۂ اول وزیرستان معاہدہ: طالبان کی دھمکی17 September, 2006 | صفحۂ اول ڈیورنڈ لائن تسلیم کرنے کا مطالبہ26 January, 2007 | صفحۂ اول افغانستان: القاعدہ کا شبہ، دو گرفتار07 February, 2007 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||