افغانستان: القاعدہ کا شبہ، دو گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ افغانستان کے شمالی علاقے میں القاعدہ سے تعلق کے شُبہ میں دو جنگجوؤں کو گرفتار کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ گرفتاری ضلع ننگرہار کےگاؤں حکیم آباد کے قریب ایک آپریشن کے دوران عمل میں آئی اس کے علاوہ دو افغان باشندوں کو بھی دہشت گردی نیٹ ورک کے ساتھ کام کرنے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اِن افراد کی گرفتاری اِس پِیشین گوئی کےسامنے آنے کے بعد ہوئی ہے کہ طالبان آنے والے موسمِ بہار میں اپنی سرگرمیاں تیز کرسکتے ہیں۔ گزشتہ سال افغانستان میں شدت پسندوں نے ریکارڈ حملے کیے تھے۔ اتحادی فوج کے بیان کے مطابق بدھ کی صُبح کیا جانے والا آپریشن القاعدہ کے ایسے ایک رُکن کے بارے میں معلومات کی بنیاد پر کیا گیا تھا جس کے بارے میں پتہ چلا تھا کہ وہ القاعدہ کے سینئر رہنماؤں کے لیے پیغام رسانی کا کام کرتا ہے۔ امریکہ کے قومی انٹیلیجنس ڈائریکٹر جان نیگروپونٹے نے کہا تھا کہ القاعدہ پاکستان میں اپنے خفیہ ٹھکانوں سے مشرق وسطی شمالی افریقہ اور یورپ میں اپنے روابط مضبوط کررہی ہے۔ پاکستان نے اس الزام کی تردید کی تھی۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان چودہ سو کلومیٹر طویل سرحد واقع ہے جس پر گشت کرنا ایک مشکل کام ہے۔القاعدہ اور طالبان جنگجوافغانستان اور پاکستان دونوں جانب مصروف عمل ہیں اورپاکستان اور افغانستان باقاعدگی سے ایک دوسرے کو تشدد کی کاروائیوں کا ذمہ دار ٹھہراتے رہے ہیں۔ | اسی بارے میں بارودی سرنگیں: ’فیصلہ بدلا جائے‘ 09 January, 2007 | پاکستان ’باڑ لگانے کا فیصلہ مضحکہ خیز‘08 January, 2007 | پاکستان طالبان: مذاکرات کی دعوت مسترد04 February, 2007 | پاکستان ’افغانستان آپ کاگھرہے،خوش آمدید‘06 February, 2007 | پاکستان افغانستان میں مزیدفوج درکار، بش 28 November, 2006 | صفحۂ اول ڈیورنڈ لائن تسلیم کرنے کا مطالبہ26 January, 2007 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||