افغانستان میں مزیدفوج درکار، بش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے نیٹو ارکان سے ا فغانستان میں مزید فوج بھیجنے کی اپیل کی ہے۔ مسٹر بش نے کہا ہےکہ مزید فوج کا مطالبہ پہلے سے ہی کیا جاتارہا ہے اور اگر نیٹو کو افغانستان میں کامیابی چاہیے تو اسے مشکل سے مشکل مشن کو قبول کرنا ہوگا۔ اسٹونیہ میں صدر بش کا یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب لیتویہ میں نیٹو کی کانفرنس ہونے والی ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں فوج کی تعیناتی کے حوالے سے جرمنی پر خاص طور سے نکتہ چینی ہوتی رہی ہے کیونکہ اسکے فوجی دستے قدر کم کشیدگی والے شمالی افغانستان میں ہیں جبکہ زیادہ ضرورت جنوبی علاقے میں ہے جہاں طالبان سرگرم ہیں اور وہاں وہ اپنی فوجیں تعینات نہیں کررہا ہے۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل جاپ ڈی ہوپ شیفر نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ دو ہزار آٹھ تک ملک کی سلامتی کے امور افغانستان کی سکیورٹی کے حوالے کر دیۓ جائیں گے۔ | اسی بارے میں نیٹو کی توسیع‘ روس کی تشویش02 April, 2004 | صفحۂ اول نیٹو کی فوج افغانستان میں11 August, 2003 | صفحۂ اول نیٹو: یورپ سے افغانستان کیسے پہنچے؟11 August, 2003 | صفحۂ اول مزید نیٹو فوج کوسوو روانہ18 March, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||