افغانستان میں تین روز کا سوگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں خود کش حملے میں چالیس سے زائد افراد کی ہلاکتوں کے بعد تین روز کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ شمالی افغانستان کے صوبے بغلان میں ہونے والے اس خود کش حملے کو ملک کی تاریخ کا سب سے بد ترین حملہ کہا جا رہا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں سیاستدان، اساتذہ اور بچے شامل ہیں۔ چھ سیاستدانوں کی میتیں تدفین کے لیے کابل بھیج دی گئی ہیں۔ صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ یہ حملہ یہ ثابت کرتا ہے کہ انتہا پسندی سے لڑنا کتنا ضروری ہو گیا ہے۔
ابھی تک یہ پتہ نہیں چلا کہ حملہ کس گروہ نے کروایا تھا۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری لینے سے انکار کیا ہے۔ یہ خود کش حملہ بغلان صوبے میں ایک شوگر فیکٹری کے قریب ہوا تھا اور حملے کا نشانہ ایک وفد تھا جس میں ارکان پارلیمنٹ شامل تھے۔ اس وفد کا خیر مقدم کرنے سکول کے بچے آئے ہوئے تھے اس لیے ہلاک ہونے والوں میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اگرچہ صدر کرزئی نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 35 بتائی ہے لیکن بغلان کے گورنر نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے میں 41 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ شوگر فیکٹری کا دورہ کرنے والے وفد میں ایک رکن پارلیمنٹ صفیہ صدیقی بھی شامل تھیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں نے دھماکہ سنا اور سمجھ گئی کہ کچھ نہ کچھ ہوا ہے۔ میں کار کی طرف بھاگی۔ کچھ خوش قسمت تھے جو بچ گئے۔ کچھ خوش قسمت تھے جن کو بچالیا گیا لیکن میرا خیال ہے کہ افغانستان کے باشندے اس واردات کو بھلا نہیں پائیں گے۔‘
ہلاک شدگان میں رکنِ پارلیمان مصطفےٰ کاظمی بھی شامل ہیں جو کرزئی حکومت کے سابق وزیر، سابق مجاہد لیڈر اور مشہور اپوزیشن رہنما تھے۔ بگلان کے میئر کا کہنا ہے کہ بمبار کی صرف ٹانگیں ملی ہیں لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کی شناخت کیا ہے۔ شمالی افغانستان وہ علاقہ ہے جہاں شدت پسندوں کا کارروائیاں اس پیمانے پر نہیں ہوتیں جیسی جنوب یا مشرق میں۔ | اسی بارے میں خودکش حملے میں پندرہ ہلاک18 August, 2007 | آس پاس ’افغان صورتِ حال بد سے بدتر‘12 June, 2007 | آس پاس 80 طالبان ہلاک کرنے کا دعوٰی28 October, 2007 | آس پاس ہلمند: نیٹو حملہ، عام شہری ہلاک30 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||