افغان فوج تین گنا بڑھ جائے گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے فوج کو تین گنا زیادہ بڑا کر کے فوجیوں کی تعداد تقرباً دو لاکھ کر دی جائے گی۔ وزارتِ دفاع کے مطابق ایسا ہمسایہ ممالک کو، جیسا کہ ایران اور پاکستان، افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے روکنے اور ملک کی داخلی سکیورٹی کے لیے کیا جا رہا ہے۔ چھ سال پہلے بون میں ہونے والی کانفرنس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان کے مستقبل کے لیے ستر ہزار کی فوج کافی ہو گی۔ لیکن اس وقت لڑائی کی سنگینی اور اس کے پھیلنے کو سامنے نہیں رکھا گیا تھا۔ اس سال کے آخر تک افغانستان کی فوج کی تعداد ستر ہزار ہو جائے گی لیکن وزارتِ دفاع کے ترجمان جنرل محمد ظاہر امین نے کہا ہے کہ اب افغانستان فوج کی تعداد کو دو لاکھ تک بڑھانے کے متعلق سوچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی بڑی فوج خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھے گی۔ گزشتہ ہفتے افغان فوج نے اپنا پہلا آزاد آپریشن کیا تھا اور ہلمند صوبے میں منشیات کی ایک بڑی کھیپ پکڑی تھی۔ | اسی بارے میں افغانستان: دھماکے میں چھ ہلاک03 September, 2007 | آس پاس قندھار: دو بم دھماکے، چھ ہلاک17 May, 2007 | آس پاس چار بچوں سمیت نو افراد ہلاک17 April, 2007 | آس پاس کابل: دھماکے میں تیرہ افراد ہلاک10 October, 2006 | آس پاس کابل: خودکش حملہ، 12 ہلاک30 September, 2006 | آس پاس قندھار دھماکہ، کئی فوجی ’زخمی‘18 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||