آدھی ہلاکتیں غیر ملکیوں کےہاتھوں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حقوق انسانی کے لیے اقوام متحدہ کی کمشنر لوئس آربر نے افغانستان میں بین الاقوامی فوجوں کے ہاتھوں عام شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’اس کا بھی کوئی جواز نہیں ہے کہ حکومت مخالف اور خود کش بمبار بے گناہ لوگوں کو ماریں‘۔ آکسفیم کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سال بارہ سو شہری ہلاک ہوئے جن میں آدھے غیر ملکی فوجوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ لوئس آربر نے کہا ہے کہ: ’افغان باشندے چاہتے ہیں کہ باہر کی فوجیں ان کی حفاظت کریں صرف اپنی ہی حفاظت نہ کرتی رہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ عام تاثر یہ ہے کہ یہ بین الاقوامی کارروائی اپنی ہی فوجوں کی حفاظت کے لیے ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی کمشنر لوئس آربر افغانستان کے چھ روز کے دورے کے اختتام پر کابل میں بات کر رہی تھیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ افغانستان میں موجود عالمی افواج پر ذمہ داری زیادہ عاید ہوری ہے اور انہی سے اس بات کی زیادہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ شہریوں کی ہلاکتوں اور ان کے زخمی کو باعث بننے سے بچنے کی ہی ممکن کوشش کریں۔ |
اسی بارے میں افغانستان:حملے میں سات بچے ہلاک18 June, 2007 | آس پاس افغانستان: 70 سے زائد ہلاکتیں07 July, 2007 | آس پاس ’افغانستان: مغوی جرمن شہری قتل‘21 July, 2007 | آس پاس افغانستان: فرینڈلی فائر میں ہلاکتیں25 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||