BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 November, 2007, 04:10 GMT 09:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آدھی ہلاکتیں غیر ملکیوں کےہاتھوں
فائل فوٹو
افغان باشندے چاہتے ہیں کہ باہر کی فوجیں ان کی حفاظت کریں صرف اپنی ہی حفاظت نہ کرتی رہیں
حقوق انسانی کے لیے اقوام متحدہ کی کمشنر لوئس آربر نے افغانستان میں بین الاقوامی فوجوں کے ہاتھوں عام شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ ’اس کا بھی کوئی جواز نہیں ہے کہ حکومت مخالف اور خود کش بمبار بے گناہ لوگوں کو ماریں‘۔

آکسفیم کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سال بارہ سو شہری ہلاک ہوئے جن میں آدھے غیر ملکی فوجوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔

لوئس آربر نے کہا ہے کہ: ’افغان باشندے چاہتے ہیں کہ باہر کی فوجیں ان کی حفاظت کریں صرف اپنی ہی حفاظت نہ کرتی رہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ عام تاثر یہ ہے کہ یہ بین الاقوامی کارروائی اپنی ہی فوجوں کی حفاظت کے لیے ہو رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی کمشنر لوئس آربر افغانستان کے چھ روز کے دورے کے اختتام پر کابل میں بات کر رہی تھیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ افغانستان میں موجود عالمی افواج پر ذمہ داری زیادہ عاید ہوری ہے اور انہی سے اس بات کی زیادہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ شہریوں کی ہلاکتوں اور ان کے زخمی کو باعث بننے سے بچنے کی ہی ممکن کوشش کریں۔

برطانوی فوج کی گاڑیطالبان کا خاتمہ،
پانچ سال بعد بھی کیوں ممکن نہیں ہو سکا؟
مشتبہ طالبانافغانستان میں تشدد
بگڑتی صورتحال کا ذمہ دار آخر کون ہے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد