’افغانستان کوطالبان سے خطرہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے عالمی برادری کو آگاہ کیا ہے کہ افغانستان کو شدت پسندوں کے حوالے نہ ہونے دیں۔ انہوں نے یہ بات کابل کے ایک روزہ دورے کے دوران کہی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے ہم منصب حامد کرزئی سے بھی ملاقات کی اور وہ کابل میں تعینات تقریباً 1300 فرانسسی فوجیوں سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں۔ حامد کرزائی سے ملاقات کے بعد نکولس سرکوزی نے صحافیوں سے کہا’ یہاں ہماری جنگ دہشتگری اور انتہا پسندی کے خلاف ہے اور اس میں شکست نہیں ہونی چاہیے‘۔ انہوں نے مزید کہا’ اس لیے یہ اہمیت رکھتا ہے کہ ہم ایسے افغانستان کی تعمیر نو میں مدد فراہم کریں جو قانونی ، جمہوری اور جدید ہو‘۔ حال ہی میں مسٹر سرکوزی نے افغانستان کی ترقی کے لیے امریکہ کی حمایت کرنے کی بات کہی تھی۔ انکے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سرکوزی کا یہ دورہ افغانستان کی ترقی میں فرانس کی حمایت کی وضاحت کرتا ہے۔ فرانس کے صدر کے ساتھ ملک کے وزیر دفاع اور وزیر خارجہ بھی افغانستان پہنچے ہیں۔ ان لوگوں نے ناٹو افواج کے سربراہ جنرل ڈان مکنل سے بھی ملاقات کی۔ نومبر میں سرکوزی نے امریکہ کی کانگریس کو بتایا تھا کہ افغانستان میں جب تک ضرورت رہے گی فرانس کی فوج وہاں موجود رہے گی اور وہاں شکست ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔ ادھر امریکہ اور دیگر اتحادیوں نے فرانس سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی فوجیں ملک کے جنوبی اور مشرقی جیسے خطرناک علاقوں میں بھیجے اور طالبان سے مقابلے میں مدد کریں۔ فرانس کے زیادہ فوجی کابل کے نزدیکی محفوظ علاقوں میں تعینات ہیں۔ | اسی بارے میں طالبان حملےمیں 15محافظ ہلاک18 December, 2007 | آس پاس شہری ہلاکتیں، کرزئی برہم 03 May, 2007 | آس پاس نیٹو کا حملہ،’عام شہری ہلاک‘01 May, 2007 | آس پاس طالبان: تین افغانیوں کو پھانسی01 April, 2007 | آس پاس افغانستان میں ’آٹھ شہری‘ ہلاک04 March, 2007 | آس پاس ’قبائلی علاقوں میں جاری عدم تحفظ‘ 23 February, 2007 | آس پاس افغانستان: برطانیہ مزیدفوج بھیجے گا23 February, 2007 | آس پاس شنوک تباہ، آٹھ امریکی ہلاک18 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||