BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 May, 2007, 11:54 GMT 16:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہری ہلاکتیں، کرزئی برہم
خدشہ تھا کہ موسم بہار کے ساتھ طالبان کی کارروائیوں میں اضافہ ہو گا
افغان اور اقوام متحدہ کے حکام کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران مغربی افغانستان میں تقریباً پچاس عام شہری ہلاک ہو ئے تھے۔

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ صوبہ ہرات میں ہلاک ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ ہرات سے ان کے علاوہ بھی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔


گزشتہ ہفتے کے واقعات کے بعد صدر حامد کرزئی نے غیر ملکی فوجی کمانڈروں کو طلب کیا اور انہیں بتایا کہ ان کا برداشت کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ لیکن دوسری جانب امریکی قیادت میں لڑنے والی غیر ملکی افواج کا دعویٰ تھا کہ گزشتہ ہفتے ہلاک ہونے والوں میں ایک سو چھتیس طالبان تھے اور یہ کہ انہیں کسی شہری کے مارے جانے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

افغانستان میں موجود غیر ملکی افواج پر اپنی کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کو مارنے کے الزامات نئے نہیں ہیں۔ انہی الزامات کے جواب میں اس سال جنوری میں نیٹو افواج نے کہا تھا کہ گزشتہ سال کی سب سے بڑی غلطی عام شہریوں کی ہلاکت تھی اور یہ کہ وہ آئندہ صورتحال کو بہتر کرنے کی کوشش کریں گے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر شہری خود کش بمباروں اور اس قسم کے دیگر حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

افغانستان میں کسی بھی کارروائی میں شہریوں کی سب سے زیادہ ہلاکتوں کی حالیہ تصدیق اس وقت ہوئی جب صوبائی حکام اور اقوام متحدہ کے نمائندوں نے بدھ کے روز صوبہ شنداد میں ان مقامات کا معائنہ کیا جہاں گزشتہ سنیچر اور اتوار کو لڑائی ہوئی تھی۔

اس قدرے پرامن صوبے میں ہونے والی یہ لڑائی علاقے میں ہونے والی کارروائیوں میں سب سے مہلک تھی جس کے متعلق امریکی قیادت میں لڑنے والی افواج کا کہنا تھا کہ انہوں نے جنگجوؤں کو زمین اور فضا سے نشانہ بنایا تھا۔ تاہم فوج کا کہنا تھا کہ اس لڑائی کے دوران ’معصوم افغانوں کو زخمی ہونے سے بچانے کے لیے ہر احتیاط برتی گئی تھی۔‘

لیکن صوبہ ہرات کے ترجمان کا کہنا تھا کہ افغان پولیس نے علاقے کے دورے کے بعد بتایا تھا کہ لڑائی میں اکاون عام لوگ مارے گئے تھے جن میں اٹھارہ عورتیں اور کئی بچے بھی شامل تھے۔ پولیس کے پاس اس سے کہیں زیادہ لوگوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

افغان تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں تقریباً ایک سو مکانات تباہ ہوئے اور سینکڑوں گھرانے وہاں سے نقل مکانی کر گئے ہیں۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے بھی اپنی ایک ٹیم علاقے میں بھیجی ہے۔ ادارے نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں بھی’مقامی لوگوں نے مصدقہ اطلاعات دی ہیں جن کے مطابق انچاس عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔‘

کابل میں غیر ملکی کمانڈروں سے بات کرتے ہوئے صدر حامد کرزئی نے اپنی خفگی کا اظہار کیا۔ صدر کے ایک ترجمان کے مطابق ’ صدر نے نیٹو اور اتحادی فوجوں کے کمانڈروں کو بتایا کہ معصوم شہریوں کے ہلاک ہونے سے افغانوں کی برداشت جواب دیتی جا رہی ہے۔‘

صدر نے مزید کہا: ’ عام شہریوں کی ہلاکتیں اور لوگوں کے گھروں کی اچانک تلاشی کے واقعات ناقال قبول حد تک بڑھ گئے ہیں اور افغان انہیں زیادہ دیر تک برداشت نہیں کریں گے۔‘

بعد ازاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر کرزئی نے کہا کہ عام شہریوں کی ہلاکت کے نتائج برے ثابت ہوں گے۔’ یہ بوجھ بنتا جا رہا ہے اور ہم اس پر ناخوش ہیں۔ مجھے امید ہے کہ بین الاقوامی برادری ہماری متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مل کر کوئی ایسا لائحہ عمل تلاش کرے گی جو شہریوں کی ہلاکتوں کے اس سلسلے کا خاتمہ ثابت ہو۔‘

اس دوران امریکی اتحادی افواج نے کہا ہے کہ ایک چوکی پر حملے میں پانچ جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد