BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 April, 2007, 10:48 GMT 15:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سو سے زیادہ طالبان ہلاک‘
خدشہ تھا کہ موسم بہار کے ساتھ طالبان کی کارروائیوں میں اضافہ ہو گا
افغانستان میں نیٹو کی کمان میں اتحادی افواج نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے ہرات کے صوبے میں گزشتہ تین دنوں میں فوجی کارروائی کے دوران ایک امریکی فوجی اور ایک سو چھتیس کے قریب مشتبہ طالبان ہلاک ہو گئے تھے۔

نیٹو حکام نے دعوی کیا ہے کہ اتوار کو چودہ گھنٹے تک جاری رہنےوالی ایک لڑائی میں ستاسی مشتبہ طالبان کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ اس س ایک دن قبل ہونے والی لڑائی میں انچاس طالبان اور ایک امریکی فوجی ہلاک ہو گیا تھا۔

امریکی حکام کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ لڑائی افغانستان کے مغربی صوبے ہرات کے علاقے زرکوہ وادی میں ہوئی۔

اس بیان میں کہا گیا کہ طالبان کے خلاف امریکی فوج کی کارروائی گزشتہ کئی دنوں سے جاری ہے۔

تاہم امریکی فوج کے اس دعوی کی آزاد ذرائع سے کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

دریں اثناء برطانوی فوج نے جنوبی افغانستان میں ہلمند صونے کے علاقے وادیِ سنگین میں ’آپریشن سلیکان‘ کے نام سے ایک بڑی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کارروائی میں تین ہزار کے قریب اتحادی اورافغان فوجی حصہ لے رہے ہیں۔

برطانوی فوج کا خیال ہے کہ اس علاقے میں طالبان بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

برطانوی فوج کے ساتھ سفر کرنے والے بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ اس کارروائی میں درجنوں بکتر بند گاڑیاں شامل ہیں اور انہیں فوجی ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل ہے۔

برطانوی فوج کو اس کارروائی کے دوران ابھی تک طالبان کی طرف سے کسی بڑی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔ تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ وادی میں مزید پیش رفت کرنے پر برطانوی فوج کی طالبان سے مذ بھیڑ ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد