افغانستان میں مزید امریکی فوج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی حکومت نےتصدیق کی ہے کہ وہ افغانستان میں مزید تین ہزار فوجی بھیج رہی ہے ۔اِن امریکی فوجیوں کی اکثریت کو افغانستان کے جنوب میں بھیجا جا رہا ہے جہاں وہ پہلے سے موجود نیٹو افواج میں شامل ہوں گے۔ تین ہزار امریکی فوجیوں کے افغانستان میں پہچنے کے بعد افغانستان میں نیٹو افواج کی تعداد چون ہزار ہو جائے گی۔ امریکہ نے عراق میں تیس ہزار اضافی فوج بھیج کر عراق میں مزاحمت تحریک کو قدرے قابو کر لیا ہے اور اس کے پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ افغانستان میں فوج کمک کے ذریعے طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر کو قابو کیا جا سکتا ہے۔ نیٹو افواج کے سپریم کمانڈر جنرل جان کریڈاک نے بی بی سی کو انٹرویو میں اِس تاثر کی نفی کی کہ افغانستان میں مزاحمتی تحریک زور پکڑ رہی ہے اور ملک مکمل تباہی کی جانب جا رہا ہے۔ انہوں نے نیٹو اتحاد میں شامل ممالک پر زور دیا کہ افغانستان میں اہداف حاصل کرنے کے لیےایک لمبی جنگ لڑنا ہوگی۔ | اسی بارے میں طالبان کے خلاف ’بڑی کارروائی‘06 March, 2007 | آس پاس موسیٰ قلعہ پر طالبان کا قبضہ ختم11 December, 2007 | آس پاس نیٹو فوج کی تعیناتی پر اختلافات29 November, 2006 | آس پاس اتحادی اور مقامی دعوؤں میں تضاد 26 June, 2007 | آس پاس ’سول ہلاکتوں کے ذمہ دار طالبان ہیں‘10 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||