نیٹو فوج کی تعیناتی پر اختلافات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لیٹویا میں ہونے والی سربراہ کانفرنس میں جنوبی اافغانستان میں ’مشکل اسائنمنٹ قبول‘ کرنے کے امریکی اصرار کے باوجود نیٹو ممالک کے رہنما علاقے میں فوج کی محدود تعیناتی پر زور دے رہے ہیں۔ فرانس اور جرمنی نے علاقے میں اپنے فوجیوں کی تعیناتی سے متعلق چھوٹی تبدیلیوں پر تو رضامندی ظاہر کی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ افغنستان کے ان علاقوں میں فوج تعینات کرنے کے حق میں نہیں ہیں جہاں نیٹو فوج کو طالبان کی جانب سے بڑھتی ہوئی مزاحمت کا سامنا ہے۔ دوسری جانب ہالینڈ اور رومانیہ فوج کی تعیناتی پر لگی پابندیوں میں آسانی پیدا کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔ افغانستان کے جنوب میں عسکریت پسندوں کے ساتھ جاری شدید جھڑپوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا کی فوجوں نے اٹھایا ہے۔ نیٹو اتحاد کے حکام نے بتایا ہے کہ افغانستان میں بتیس ہزار فوجیوں میں سے پچہتر فیصد فوج کو اب کسی بھی مقام پر تعینات کرنے کی اجازت ہوگی۔ امریکی صدر جارج بش نے نیٹو ممالک سے کہا تھا کہ وہ مشکل کام کرنے پر رضا مند ہوجائیں۔ نیٹو سربراہ کانفرنس میں مزاحمت کاروں سے نبرد آزما ہونے کے لیے مزید فوجی امداد کی دراخواست پر گفتگو کی جارہی ہے۔ نیٹو کے رہنما اس اتحاد میں شراکتی سرگرمیوں کو بہتر بنانے پر بھی بات چیت کریں گے جن میں جاپان اور آسٹریلیا جیسے ممالک کو اتحاد میں بہتر انداز میں شریک کرنے پر غور کیا جائے گا۔
منگل کی رات کسی حد تک اس بات کے وعدے ہوئے ہیں کہ نیٹو ممالک افغانستان میں مزید فوج بھیجیں گے۔ اتحاد کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ تین ممالک افغانستان میں فوج بھیجنے پر رضا مند ہوگئے ہیں جبکہ دیگر کئی ممالک نے افغانستان کے لیے فنڈ میں اضافے کا عندیہ دیا ہے۔ نیٹو کمانڈروں نے جنوبی افغانستان میں جاری لڑائی میں ڈھائی ہزار مزید فوجیوں کو بھیجنے کی درخواست کر رکھی ہے۔ منگل کو فرانس، سپین، اٹلی اور جرمنی کے درمیان معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت ضرورت پڑنے پر افغانستان میں ان کی فوج کو ملک کے کسی بھی حصے میں تعینات کیا جا سکے گا۔ اس سے قبل یہ افواج صرف انہیں علاقوں میں تعینات ہو سکتی تھیں جہاں انہیں بھیجا جاتا تھا۔
اس سے قبل امریکی صدر جارج بش نے کہا تھا کہ وہ عراق میں اپنی حکمت عملی پر غور کے لیے تیار ہیں لیکن وہ کسی صورت عراق سے فوجوں کو واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ نیٹو ممالک کی سربراہ کانفرنس میں شرکت سے تھوڑی دیر پہلے لیٹویا یونیورسٹی سے خطاب کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان کا عراق سے امریکی فوجیوں کو مشن کی کامیابی تک واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ عراق میں حکمت علمی کے بارے میں وہ سننے کے لیے تیار ہیں لیکن وہ عراق مشن کی کامیابی تک وہاں سے فوج کو واپس بلانے سے متعلق کسی تجویز کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں کامیابی کے لیے نیٹو کو وہاں مزید فوج بھیجنے کی ضرورت ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں فوج کی تعیناتی کے حوالے سے جرمنی پر خاص طور سے نکتہ چینی ہوتی رہی ہے کیونکہ اس کے فوجی دستے قدر کم کشیدگی والے شمالی افغانستان میں ہیں جبکہ زیادہ ضرورت جنوبی علاقے میں ہے جہاں طالبان سرگرم ہیں اور وہاں وہ اپنی فوجیں تعینات نہیں کر رہا ہے۔ | اسی بارے میں عراق سےفوج واپس نہیں بلاؤں گا: بش28 November, 2006 | آس پاس نیٹو کی توسیع‘ روس کی تشویش02 April, 2004 | صفحۂ اول نیٹو کی فوج افغانستان میں11 August, 2003 | صفحۂ اول نیٹو: یورپ سے افغانستان کیسے پہنچے؟11 August, 2003 | صفحۂ اول مزید نیٹو فوج کوسوو روانہ18 March, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||