اتحادی اور مقامی دعوؤں میں تضاد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں ایک گاؤں کے رہائشیوں نے بائیس جون کو اپنے گاؤں پر حملے کے بارے میں امریکی بیان کو بری طرح رد کیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار جِم مِیور کے مطابق عراق میں جاری لڑائی کے بارے میں امریکی فوج کے ترجمانوں اور مقامی لوگوں کے بیانات میں تضاد کی یہ تازہ ترین مثال ہے۔ بائیس جون کو امریکی فوج نے کہا تھا کہ اس نے بعقوبہ کے شمال میں واقع الخالص نامی گاؤں پر میزائلوں سے لیس ہیلی کاپٹروں سے جو حملہ کیا تھا اس میں القاعدہ کے سترہ بندوق بردار دہشتگرد ہلاک ہوئے تھے۔ فوج کے بقول یہ حملہ علاقے میں تین روز سے جاری آپریشن کا حصہ تھا جس کا نشانہ القاعدہ کے لوگ ہیں۔ امریکی فوج کا یہی بیان بی بی سی سمیت دنیا بھر میں ذرائع ابلاغ نے شائع کیا۔ لیکن شیعہ اکثریتی گاؤں الخالص کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ جو افراد مارے گئے ہیں ان کا القاعدہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ان کے مطابق مارے جانے والے افراد اصل میں گاؤں کے پہرے دار تھے جو درحقیقت ایسے ہی مزاحمت کاروں کے خلاف پہرہ دے رہے تھے جن کو مارنے کا دعوٰی امریکی فوج نے کیا ہے۔ دیہاتیوں کا کہنا تھا کہ جب امریکی ہیلی کاپٹروں نے ان پر راکٹ برسائے اور مشین گنوں کا استعمال کیا تو سولہ میں سے گیارہ محافظ مارے گئے جبکہ پانچ زخمی ہوگئے، جن میں سے دو شدید زخمی ہوئے۔
دیہاتیوں نے بتایا کہ حملے سے محض چند منٹ پہلے یہ لوگ عراقی پولیس کے ان اہلکاروں کی مدد کر رہے تھے جو شدت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر چھاپہ مار رہے تھے۔ اس واقعہ کے بارے میں امریکہ کی قیادت میں لڑنے والی بین الاقوامی فوج کا کہنا تھا کہ ’ جب اتحادی فوج کے ہیلی کاپٹروں اور تھری بریگیڈ کے زمینی دستے نے پندرہ کے قریب افراد کو گاؤں کے اندر داخل ہوتے دیکھا اس وقت عراقی پولیس کے اہلکار گاؤں کے ارد گرد اور اس کے اندر ایک سکیورٹی آپریشن میں مصروف تھے۔ اس موقع پر اتحادی ہیلی کاپٹروں نے میزائیلوں سے مسلح القاعدہ کے سترہ افراد کو دیکھا اور وہ جو گاڑی استعمال کر رہے تھے اسے ہیلی کاپٹر سے میزائل مار کر تباہ کر دیا۔‘ اب حملے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین الخالص کی کونسل کے سربراہ سے ملاقات کے خواہاں ہیں۔ یہ لوگ اس بات پر شدید برہم ہیں کہ ان کے گاؤں کے پہرے داروں کو القاعدہ کے کارکن بتایا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو سنّی تھے جبکہ باقی تمام شیعہ تھے اور انہیں نجف میں دفن کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ الخالص کے رہائشیوں کے الزامات کی روشنی میں واقعہ کی دوبارہ تفتیش کی جا رہی ہے۔ اگر اس سلسلے میں گاؤں والوں کے بیان کو صحیح سمجھا جاتا ہے تو پھر کئی سوالات جنم لیتے ہیں، مثلاً یہ کہ بین الاقوامی فوج نے بائیس جون کی رات جو حملہ کیا اس کی بنیاد کیا تھی اور یہ کہ ’القاعدہ کے جنگجوؤں‘ کے خلاف اتحادی فوج کی کئی دیگر کامیابیوں کے دعوؤں کی حقیقت کیا ہے۔ خاص طور پر وہاں جہاں بین الاقوامی فوج دو بدو لڑائی نہیں کرتی بلکہ ایسے افراد کو دور سے نشانہ بناتی ہے۔ مقامی لوگوں اور اتحادی فوج کے بیانات میں یہ تضاد اس مسئلے کی نشاندہی بھی کرتا ہے جس کا سامنا آج کل ذرائع ابلاغ کو ہے، یعنی ایسے دور دراز علاقوں سے خبروں کی تصدیق کیسے کی جائے جہاں واقعہ کی براہ راست تصدیق کرنا مشکل ہو۔ ایسے علاقوں تک ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی رسائی میں جان کا خطرہ ہو سکتا ہے اور ان واقعات کے بارے میں صرف سرکاری بیان پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||