’یقین دلاتا ہوں صحافی کے ساتھ انصاف ہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ توہینِ اسلام کے ملزم صحافی کا فیصلہ عدلیہ کا معاملہ ہے ’لیکن میں یقین دلاتا ہوں کہ اِس معاملے میں صحیح انداز میں انصاف ہوگا۔‘ تاہم انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ، کونڈولیزا رائس اور برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کے کابل کے دورے نے افغان صحافی کی فریاد کو مزید جلا بخشی ہے۔ مسٹر کارزائی نے کہا کہ ’ویسے تو یہ عدلیہ کا معاملہ ہے لیکن میں یقین دلاتا ہوں کہ اِس معاملے میں صحیح انداز میں انصاف ہوگا۔‘ تاہم صدر کرزئی کی یہ یقین دہانی پرویزکام بخش کے لیے کچھ زیادہ امید افزاء نہیں ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے انٹر نیٹ سے ایک ایسا مضمون اتار کر اس کی نقل لوگوں میں بانٹی جس میں اعتراض کیا گیا تھا کہ مسلمان مردوں کی طرح خواتین کو بھی ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت کیوں نہیں ہے؟ صحافی کام بخش اس الزام کی تردید کرتے ہیں لیکن گزشتہ ماہ شمالی افغانستان کی ایک عدالت نے سرسری سماعت کے بعد اُن پر توہین مزہب کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں سزائے موت سنائی تھی۔
گزشتہ روز افغانستان کے وزیر دفاع نے کہا تھا کہ اس معاملے پر ابھی قانونی کارروائی مکمل نہیں ہوئی ہے اور یہ ضروری نہیں کہ ان کی سزائے موت پر عملدرآمد بھی ہو۔ لیکن اطلاعات ہیں کہ مشرقی شہر گردیز کے قبائلی رہنماء اور علمائے دین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اِس سزائے موت کو برقرار رکھیں۔ ایک برطانوی اخبار جس نے مسٹر کام بخش کی جاں بخشی کے حق میں ستر ہزار دستخط جمع کئے ہیں ان کے خاندان والوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسی جیل میں بند کچھ طالبان قیدیوں نے مسٹر کام بخش پر حملہ کیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ مسٹر کام بخش اسلام ترک کرچکے ہیں اس سال جنوری کے آخر میں افغان پارلیمان کے ایوانِ بالا نے اپنا وہ بیان واپس لے لیا تھا جس میں شمالی افغانستان میں صحافی کو اسلام کے خلاف توہین آمیز مضمون تقسیم کرنے پر موت کی سزا کی حمایت کی گئی تھی۔افغان سینٹ کا کہنا ہے کہ دراصل یہ ایک تکنیکی غلطی تھی۔ افغان سینیٹ میں اس معاملے پر کوئی ووٹنگ نہیں ہوئی تھی تاہم بیان پر سینیٹ لیڈر اور صدر حامد کرزئی کے ساتھی صبغت اللہ مجددی کے بھی دستخط موجود تھے۔ بیان میں ان اداروں اور غیر ملکی ذرائع پر بھی تنقید کی گئی تھی ہے جنہوں نے بیان کے مطابق اس مقدمے کے دوران حکومت اور عدلیہ پر مقدمے کے حوالے سے دباؤ ڈالا یا اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ کچھ حکومتوں اور بین الاقوامی تنظیموں نے اس سزا کی منسوخی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اقوام ِ متحدہ نے بھی اس سزا پر نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ مقدمے کے دوران ملزم کو دفاع کے لیے قانونی مدد حاصل نہیں تھی۔تاہم مزار شریف کے صوبائی گورنر کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کے دوران قواعد و ضوابط کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ پرویز کم بخش بلخ یونیورسٹی کے طالبعلم ہیں اور افعان جریدے جہانِ نو کے لیے کام کرتے ہیں۔ انہیں سنہ 2007 میں اسلامی معاشروں میں خواتین کے کردار کے حوالے سے مواد ڈاؤن لوڈ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں کابل، اسلام چھوڑنے پر مقدمہ20 March, 2006 | آس پاس پیغمبرِ اسلام کے کارٹون پر افسوس31 August, 2007 | آس پاس ٹیچر پر توہینِ رسالت کا الزام29 November, 2007 | آس پاس کارٹون کی اشاعت پر ایڈیٹر گرفتار12 February, 2006 | آس پاس ’نیت مسلمانوں کی دل آزاری نہیں‘07 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||