پیغمبرِ اسلام کے کارٹون پر افسوس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں سویڈن کے سفارتخانے نے سویڈن کے اخبار میں شائع ہونے والے اُس کارٹون پر اظہارِ افسوس کیا ہے جس میں پیغمبرِ اسلام کو دکھایا گیا ہے۔ پاکستان نے اس کارٹون پر، جس میں پیغمبرِ اسلام کا سر کتے کے جسم پر دکھایا گیا ہے شکایت کی تھی۔ سویڈن کی حکومت نے کہا ہے کہ اسے اس کارٹون کی اشاعت سے ہونے والی کسی بھی دلآزاری پر افسوس ہے لیکن وہ اس پر معذرت نہیں کرے گی کیونکہ وہ (اشاعت کی) ذمہ دار نہیں ہے اور اس اشاعت بھی نہیں روک سکتی۔ گزشتہ سال بھی پیغمبرِ اسلام کے کارٹونوں کی اشاعت دنیا بھر میں احتجاج کا باعث بن چکی ہے۔
ابتداً ڈنمارک کے ایک روز نامے میں شائع ہونے والے ان خاکوں کے خلاف سنہ دو ہزار چھ میں کئی ممالک میں مسلمان سڑکوں پر آ گئے تھے اور پُر تشدد احتجاج میں کئی لوگ جان سے بھی گئے تھے۔ بعد میں یہ خاکے کئی اور ملکوں میں بھی شائع کیے گئے۔ اسلام میں پیغمبرِ اسلام کے خاکے یا تصویر کی اجازت نہیں ہے اور مسلمان اسے توہینِ رسالت تصور کرتے ہیں۔ اس کے علاوے اکثر مسلمان کتے کو بھی ناپاک جانور تصور کرتے ہیں۔ نیا کارٹون یا خاکہ سویڈن کے اخبار نیریکس الیہانڈا میں اتوار کو شائع ہوا ہے۔
اس کارٹون کو بنانے والے لارس ولکس نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خاکہ فن ہے اور ’سب جانتے ہیں کہ میں اسلام کے خلاف نہیں ہوں‘۔ کارٹون کا اشاعت پر اس ہفتے کے اوائل میں ایرانی حکومت بھی سویڈن کی حکومت سے شکایت کر چکی ہے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اسلام آباد میں سویڈن کے سفارتخانے کو اپنی شکایت جمعرات کو موصول کرائی تھی۔ |
اسی بارے میں ’کارٹون بنانے پر افسوس نہیں‘19 February, 2006 | آس پاس لیبیا: پرتشدد مظاہروں کی ویڈیو18 February, 2006 | آس پاس یہ کارٹون جعلی ہے: کارٹونِسٹ14 February, 2006 | آس پاس کارٹون کی اشاعت پر ایڈیٹر گرفتار12 February, 2006 | آس پاس شہری انڈونیشیا چھوڑ دیں: ڈنمارک11 February, 2006 | آس پاس اظہارِ آزادی کا امتحان: نئے کارٹون08 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||