BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 June, 2008, 16:30 GMT 21:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایران پر پابندیوں کامطالبہ کروں گا‘
بش اور براؤن
افغانستان میں برطانوی فوج کی تعداد آٹھ ہزار سے زائد ہو جائے گی
برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن نے کہا ہے کہ وہ یورپی یونین سے مطالبہ کریں گے کہ ایران کے سب سے بڑے بینک کے اثاثے منجمد کیے جائیں اور نئی پابندیاں تیل اور گیس سے شروع کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان پر دباؤ رکھنے کے لیے برطانیہ مزید فوج افغانستان بھیجے گا جس کی تفصیلات بعد میں بتائی جائیں گی۔

برطانوی وزیر اعظم نے یہ بات امریکی صدر جارج بش کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اس اعلان کے حوالے سے برطانوی وزیرِ دفاع اراکینِ پارلیمنٹ کو جلد آگاہ کریں گے۔

اس اعلان کے ساتھ افغانستان میں برطانوی فوج کی تعداد آٹھ ہزار سے زائد ہو جائے گی۔ ان میں زیادہ تر ہلمند صوبے میں تعینات ہیں۔

سنہ دو ہزار ایک سے افغانستان میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد ایک سو دو ہے۔

برطانوی وزیراعظم نے برطانوی فوجیوں کی بہادری کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ فوجی واپس آئیں اور کچھ جائیں گے تاہم مجموعی تعداد زیادہ ہو گی۔

’جیسے کہ پہلے کہا جا چکا ہے کہ افغانستان میں فوج کی موجودگی برطانیہ کی قومی سلامتی کے حق میں ہے کیونکہ اگر ہم افغانستان میں طالبان کا مقابلہ نہیں کرتے تو طالبان برطانیہ آ سکتے ہیں۔ اس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم مزید فوج بھیج رہے ہیں۔‘ یہ کہا جا رہا ہے کہ چند ہفتوں میں انجینیئر اور لاجسٹک کا سٹاف بھی بھیجا جائے گا۔

طالبان برطانیہ آ سکتے ہیں
 افغانستان میں فوج کی موجودگی برطانیہ کی قومی سلامتی کے حق میں ہے کیونکہ اگر ہم افغانستان میں طالبان کا مقابلہ نہیں کرتے تو طالبان برطانیہ آ سکتے ہیں
برطانوی وزیراعظم

تاہم برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عراق سے انخلاء کر کے افغانستان فوجیں بھیجی جائیں۔ ’دونوں ممالک میں فوجوں کی ضرورت ہے اور فوج کو ایک ملک سے نکال کر دوسرے ملک نہیں بھیجا جا سکتا۔‘

انہوں نے صدر بش کو برطانیہ کا ایک اہم دوست قرار دیا اور ان کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اس دوستی کو اہمیت دیتے ہیں خواہ وہ افغانستان کے لیے ہو یا عراق یا دنیا کے کسی بھی خطے کے لیے۔

ایران کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کو مغرب کے ساتھ ٹکراؤ کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے اور برطانیہ بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔

’لیکن اگر ایران قراردادوں اور بات چیت کے لیے ہماری پیشکشوں کو بھی نظر انداز کرتا رہا تو ہمارے پاس مزید پابندیوں کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہے گا۔‘

امریکی صدر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں برطانوی وزیر اعظم کے کردار کو سراہا۔ عراق پر انہوں نہ کہا کہ صدام حسین کو ہٹانا صحیح فیصلہ تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد