BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 May, 2008, 04:19 GMT 09:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دنیا سیاسی جبر کا شکار:ایمنسٹی

گوانتانامو میں سینکڑوں افراد قید ہیں
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں صدر بش کی طرف سے امریکی ادارے سی آئی اے کو لوگوں کو خفیہ طور پر قید رکھنے اور تفتیش کرنے کی اجازت دینے کے اقدام کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی اعلامیہ کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کی سن دو ہزار آٹھ کی رپورٹ میں سن دو ہزار سات میں دنیا کے ایک سو پچاس ملکوں میں انسانی حقوق کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا ہے۔

’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے کہا ہے کہ سن دو ہزار سات میں بھی دنیا ’عدم مساوات کا شکار، امتیازات سے سہمی اور سیاسی جبر سے مسخ رہی۔‘

’انٹرنیشنل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس‘ یا انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے ساٹھ سال پورے ہونے پر شائع کی جانے والی اس رپورٹ میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ ان ساٹھ برسوں میں انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی روح کو زندہ رکھا گیا اور انسانی حقوق کی تحریک نے زور پکڑا جس کا ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی ایک حصہ ہے۔

ایمنسٹی رپورٹ
 صدر بش کی طرف سے خفیہ حراستوں اور تفتیش کے پروگرام کو جاری رکھنے کی اجازت دینا بش انتظامیہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اختیار کی گئی ان بے شمار غیر قانونی پالیسوں میں سے ایک ہے جو انسانی حقوق کے انٹرنیشنل ڈیکلاریشن کے اصولوں کی واضح طور پر نفی کرتی ہیں۔

اس ضخیم رپورٹ میں دنیا کے پانچ خطوں، افریقہ، امریکہ، ایشیاء اور بحرالکاہل، یورپ اور وسطی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں انسانی حقوق کے اعلامیے کے اختیار کیے جانے کے بعد سے اب تک انسانی حقوق کی صورت حال کا جائز لیا گیا۔

اس رپورٹ میں افغانستان سے لے کر زمبابوے تک ڈیڑھ سو ملکوں میں سن دو ہزار سات میں انسانی حقوق کی صورت حال پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

امریکہ
اس رپورٹ میں سن دو ہزار سات میں امریکہ میں انسانی حقوق کی صورت حال کا جائزہ ہی گوانتامو بے کے فوجی قید خانے سے شروع ہوتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے چھ سال ہونے کے بعد بھی امریکہ نے سینکڑوں لوگوں کو بغیر کسی الزام کے غیر معینہ فوجی حراست میں رکھا ہوا ہے۔ ان قیدیوں پر کوئی افغانستان اور گوانتانامو میں کوئی مقدمہ بھی نہیں چلایا گیا۔ اس کے علاوہ عراق میں بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ امریکی قید میں ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جولائی میں صدر بش نے سی آئی اے کی طرف سے خفیہ طور پر لوگوں کو قید رکھنے اور ان سے تفتیش کرنے کے پروگرام کو جاری رکھنے کا اشارہ دیا۔

ایمنسٹی نے کہا کہ صدر بش کی طرف سے اس پروگرام کو جاری رکھنے کی اجازت دینا بش انتظامیہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اختیار کی گئی ان بےشمار غیر قانونی پالیسیوں میں سے ایک ہے جو انسانی حقوق کے انٹرنیشنل ڈیکلریشن کے اصولوں کی واضح طور پر نفی کرتی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ صدر بش نے یہ احکامات اقوام متحدہ کے دو اداروں کی طرف سے امریکی انتظامیہ کو واضح طور پر یہ بتا دینے کے ایک سال بعد جاری کیے کہ لوگوں کو خفیہ طور پر حراست میں رکھنا امریکہ کی عالمی ذمہ داریوں کے خلاف ہے۔

مشرقِ وسطیٰ
مشرق وسطیٰ کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق پر امریکی حملے کے پانچ سال گزر جانے کے بعد بھی تصادم کی صورت حال میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔

سن دو ہزار سات کے شروع میں صدر بش نے چھبیس ہزار مزید امریکی فوجی عراق بھیجے جس کا مقصد ملک میں سکیورٹی کی صورت حال کو بہتر کرنا تھا لیکن انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں وسیع پیمانے پر جاری رہی جن میں شیعہ، سنی مسلح گروہ، عراقی سکیورٹی فورسز اور امریکہ کی قیادت میں تعینات کثیر الملکی فوج کے اہلکار شامل رہے۔

فرقہ وارانہ تشدد میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے۔ بیس لاکھ کے قریب عراقی ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے اور بائیس لاکھ کے قریب ملک کے اندر ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی کر گئے۔

سن دو ہزار سات کے آخر میں امریکی حکام اور عراق کی حکومت کی طرف سے یہ دعوٰی کیا جانے لگا کہ امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کارگر ثابت ہوا ہے اور شہریوں کی ہلاکتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ لیکن پرتشدد حملے جاری رہے اور عراقیوں کے حالات انتہائی خراب رہے۔

عراق میں ساٹھ ہزار کے قریب لوگ کسی مقدمے کے بغیر امریکی قیادت میں تعینات کثیر الملکی فوج یا عراقی سکیورٹی فورسز کی قید میں تھے۔ جن لوگوں پر حملوں اور قتل جیسے الزامات تھے انہیں عدالتوں میں پیش کیا گیا اور ان کو بغیر منصفانہ سماعت کے موت کی سزائیں سنا دی گئیں۔

اسرائیل قبضے میں فلسطینی علاقوں میں بھی صورت حال کچھ بہتر نہیں رہی۔ فلسطینیوں کے مسلح گروہ اسرائیلی علاقوں پر مقامی طور پر بنائے گئے قسم میزائیل داغتے رہے جبکہ اسرائیل اپنی فوجی قوت کے بل بوتے پر فلسطینوں پر حملے کرتا رہا جس سے شہریوں کی ہلاکتیں ہوتی رہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل مقبوضہ علاقوں اور غرب اردن میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع کرتا رہا اور اسرائیل نے حفاطتی دیوار کی تعمیر جاری رکھی جس سے مزید فلسطینی زمین کو اسرائیل میں شامل کر لیا گیا۔

رپورٹ میں غزہ کی اسرائیل کی طرف سے اقتصادی ناکہ بندی کا ذکر بھی کیا گیا اور اسے پندرہ لاکھ فلسطینیوں کو اجتماعی طور پر سزا دینا قرار دیا گیا۔

دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سے خطے پر بڑے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور الجیریا میں ہونے والا بم دھماکہ جس میں ایک سو تیس افراد ہلاک ہو گئے تھے اس کی ایک مثال ہے۔ رپورٹ میں تنظیم نے کہا ہے ان واقعات کو بنیاد بنا کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو جائزہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سعودی عرب میں دوسرے ملکوں کی طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر حکام اپنے جابرانہ اقدامات کو درست قرار دیتے رہے۔

ہزاروں کی تعداد میں لوگ خطے کے ملکوں میں قید ہیں۔ مصر میں اٹھارہ ہزار کے قریب لوگ نقص امن کے تحت قید ہیں جبکہ حکام صرف ڈیڑھ ہزار کی حراست کی تصدیق کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں حکام کے مطابق سن دو ہزار تین سے تین ہزار لوگ قید ہیں اور اسرائیل میں آٹھ سو فلسطینی جیلوں میں ہیں۔

ایشیاء اور بحرالکاہل
اس خطے کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں یہ علاقہ صف اول میں رہا۔ افغانستان اور پاکستان میں سرکاری فوجوں اور مسلح گروہوں کے درمیان جاری طویل لڑائی میں شہری ہلاکتیں ہوتی رہیں اور انسانی حقوق کی صورت حال ابتری کا شکار رہی۔

یہ جنگ خطے کے سیاسی اور دفاعی حالات پر بھی بری طرح اثر انداز ہوتی رہی۔ امریکہ کی طرف سے پاکستان کی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مزید شدت سے کارروائیاں کرنے پر دباؤ بڑھتا رہا۔

سن دو ہزار سات میں افغانستان میں پر تشدد واقعات میں ساڑھے چھ ہزار افراد ہلاک ہوئے اور جس میں دو تہائی عام شہری تھے۔ مسلح گروہ جن میں طالبان بھی شامل ہیں عام شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بناتے رہے۔

افغان سکیورٹی فورسز اور امریکہ اور نیٹو کی افواج کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں اور فضائی حملوں میں بھی سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے۔

پاکستان کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ صدر مشرف کی طرف سے چیف جسٹس کو معزول کیے جانے کے بعد ایک سیاسی بحران شروع ہو گیا اور اس دوران ہونے والے مظاہروں میں وکلاء، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اکتوبر میں صدر مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی اور ملکی ذارئع ابلاغ پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان میں حکومت خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ جنوری سے اکتوبر تک کے عرصے میں صرف صوبہ سندھ میں ایک سو تراسی خواتین کو خاندان کی عزت کے نام پر قتل کر دیا گیا۔

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں حقوق انسانی کی صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ہندوستان کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کے کنونشن اور اپنی بین الاقوامی ذمے داریوں کے تحت تمام نامعلوم قبروں کی تفتیش کا حکم دے۔

ایمنسٹی کے مطابق غیر قانونی ہلاکتیں، جبری گمشدگیاں اور ایذارسانی سے حقوق انسانی کے بین الاقوامی اور ہندوستانی قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ان خلاف ورزیوں کا شمار بین لاقوامی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

یورپ اور وسطی ایشیاء
سن دو ہزار سات میں یورپ میں انسانی حقوق کی صورت حال پر رپورٹ میں سب سے پہلے دہشت گردی کے الزامات میں پکڑے جانے والے افراد کی دوسرے ملکوں سے منتقلی اور تفتیش والا معاملہ کا ذکر کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سن دو ہزار سات میں ایسے ثبوت سامنے آئے جن سے اس بات میں کوئی شک نہیں رہا گیا کہ یورپ کی حکومتیں امریکہ کی طرف سے لوگوں کو خفیہ طور پر حراست میں رکھنے اور تفتیش کرنے کے پروگرام میں شریک جرم رہیں۔

برطانیہ کی حکومت تشدد کے خلاف عالمی پابندی کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسے لوگوں کو جنہیں سکیورٹی کے لیے خطرہ تصور کیا گیا ملک بدر کر کے ایسے ملکوں کے حوالے کرتی رہیں جہاں ان کے انسانی حقوق کو پامال کیے جانے کا اندیشہ تھا۔

 اسلحہاسلحہ کا بازار گرم
پابندیوں کے باوجود اسلحہ لینا مشکل نہیں
پھانسی کا پھندہایمنسٹی رپورٹ
’پاکستان پھانسیوں میں سب سے آگے‘
ایمنسٹی رپورٹایمنسٹی رپورٹ
خوف کی سیاست دنیا کوتقسیم کر رہی ہے
جانسٹنجانسٹن کا اعزاز
ایمنسٹی نے جانسٹن کے لیے ایوارڈ کااعلان کیا ہے
فائلگھریلو تشدد
روس میں فی گھنٹے ایک عورت کی جان جاتی ہے
خالد المقتریسی آئی اے خفیہ جیل
خفیہ جیلوں میں رکھے گئے شخص کی کہانی
ایمنسٹی انٹرنیشنلچین کا ’اعزاز‘
اٹھاسی فیصد پھانسیاں صرف پانچ ممالک میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد