BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 April, 2007, 02:53 GMT 07:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان پھانسیوں میں سب سے آگے‘
مرزا طاہر
برطانوی شہری مرزا طاہر کو بھی پاکستان میں پھانسی کی سزا ہوئی تھی تاہم بعدازاں انہیں صدرِ پاکستان نے معافی دے دی تھی
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ افراد پھانسی کے منتظر ہیں۔

ایمنسٹی کے مطابق دنیا بھر کی جیلوں میں اس وقت چوبیس ہزار افراد سزائے موت کے منتظر ہیں اور ان میں سے ایک تہائی پاکستان میں ہیں۔

تنظیم کی سالانہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں قید سزائے موت کے منتظر افراد کی تعداد سات ہزار دو سو سے زائد ہے جن کی اکثریت برے حالات میں پرہجوم جیلوں میں قید ہے۔

رپورٹ کے مطابق’کچھ جگہ پر سزائے موت کے بارہ قیدیوں کو مبینہ طور پر ایک چار میٹر ضرب تین میٹر کی اس کوٹھری میں بند کیا گیا جو صرف ایک فرد کے لیے بنائی گئی تھی‘۔

 کچھ جگہ پر سزائے موت کے بارہ قیدیوں کو مبینہ طور پر ایک چار میٹر ضرب تین میٹر کی اس کوٹھری میں بند کیا گیا جو صرف ایک فرد کے لیے بنائی گئی تھی۔

رپورٹ پر بات کرتے ہوئے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے برطانوی چیپٹر کی ڈائریکٹر کیٹ ایلن کا کہنا تھا’ ضرورت اس بات کی ہے کہ سزائے موت دینے والی حکومتوں خصوصاً پاکستانی صدر جنرل مشرف پر زور ڈالا جائے کہ وہ اس سزا پر فوراً پابندی لگائیں‘۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِ داخلہ آفتاب شیر پاؤ کا کہنا تھا’ہمارے اپنے قوانین ہیں جو برٹش دور سے ہمیں ورثے میں ملے ہیں اور ان کا اطلاق منصفانہ طریقے کیا جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک موت کی سزا کے خاتمے سے سنگین جرائم میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے‘۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سال 2006 میں دنیا بھر میں عدالتوں کے ذریعہ سزائے موت سنانے کے واقعات میں کمی آئی تھی لیکن اس سال کے اواخر تک کم از کم انیس ہزار افراد موت کے منتظر تھے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 1591 افراد کو پھانسی دی گئی، جن میں سب سے زیادہ تعداد چین میں تھی۔ اٹلی میں جاری ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ برس چین میں 1051 افراد کو پھانسی دی گئی لیکن خدشہ ہے کہ اصل تعداد سات سے آٹھ ہزار رہی ہوگی‘۔

چین کے بعد 177 کے ساتھ ایران دوسرے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان میں 82 لوگوں کو سزائے موت دی گئی جبکہ عراق اور سوڈان میں 65 اور امریکہ میں سزائے موت کے 53 فیصلے کیے گئے۔

ایمنسٹی کا کہنا تھا کہ حالانکہ دنیا میں سزائے موت کے نظام کو ختم کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔پھر بھی 2006 میں 25 ممالک میں موت کی سزائیں دی گئیں جبکہ 2005 میں 22 ملکوں میں ایسا ہوا۔

سب سے زیادہ پھانسیاں
چین۔1010
ایران۔177
پاکستان۔82
عراق۔65
سوڈان۔65
امریکہ۔53
ایمنسٹی انٹرنیشنل

براعظم امریکہ میں صرف امریکہ ہی میں سزائے موت کا قانون ہے جبکہ دوسرے تمام ممالک اسے ختم کر رہے ہیں۔

ایمنسٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق موت کی سزا کے منتظر انیس ہزار سے چوبیس ہزار لوگ جیلوں میں انتہائی برے حالات میں رہ رہے ہیں۔

ایمنسٹی کے مطابق’ جاپان میں سزائے موت کے منتظر زیادہ ترلوگوں کی عمر 75 سے 81 سال ہے‘۔ افریقہ میں چار ممالک سزائے موت میں یقین رکھتے ہیں جبکہ یورپ میں صرف ایک ملک بیلا روس میں یہ سزا برقرار ہے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد