BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 November, 2006, 04:41 GMT 09:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پھانسی کی سزا عمر قید میں تبدیل

مرزا طاہر حسین
مرزا طاہر حسین قتل کے الزام سے انکار کرتے ہیں
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے برطانوی شہری مرزا طاہر حسین کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔

ایوان صدر کے ایک سینئر افسر نے صدر کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کی سفارش پر صدر نے مختلف عدالتوں کی جانب سے مختلف نتائج اخذ کرنے، طویل مدت تک قید رہنے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایسا کیا ہے۔

وزیراعظم کے پریس سیکریٹری جاوید اختر نے بھی صدر کی جانب سے مرزا طاہر حسین کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی تصدیق کی لیکن مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا۔

لیڈز میں رہائش پذیر مرزا طاہر حسین کے خاندان نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ جلد ہی پاکستانی جیل سے رہا ہو کر برطانیہ آ جائیں گے۔

لیڈز میں اخبارنویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے مرزا طاہر حسین کے بھائی مرزا امجد حسین نے کہا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اٹھارہ سال سے جاری مصیبت کے اس طویل دور کا خاتمہ ہونے کو ہے۔

’ہم اس خبر کا انتظار کر رہے ہیں کہ آخر کار طاہر ہمارے پاس آ سکے گا اور اپنی زندگی کو ایک نئے سرے سے شروع کر سکے گا۔ ہم امید ہے کہ یہ خبر جلد آئے گی۔‘

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پرنس چارلس کی مداخلت بہت اہم ثابت ہوئی ہے۔

دوسری طرف شہزادہ چارلس کی سرکاری رہائش گاہ کلیرنس ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق پرنس چارلس نے مرزا طاہر حسین کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے فیصلہ پر بہت خوشی کا اظہار کیا ہے۔

صدر کا یہ فیصلہ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے پاکستان پہنچنے سے تین روز قبل سامنے آیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک سینیئر افسر نے بتایا کہ اٹارنی جنرل کی مشاورت کے بعد وزیراعظم نے صدر کو سفارش کی تھی کہ مرزا طاہر کی سزا عمر قید میں تبدیل کی جائے۔ حکام کے مطابق ملزم کی رہائی کسی بھی وقت متوقع ہے۔

عدالتوں کی توہین ہے
 صدر کا فیصلہ پاکستانی عدالتوں کی توہین ہے۔ ہم قانونی چارہ جوئی کے لیے اپنے وکلاء سے مشورہ کریں گے۔
مقتول ڈرائیور کے چچا

واضح رہے کہ برطانوی حکومت اور انسانی حقوق کے کئی اداروں نے بھی طاہر حسین کی موت سزا پر نظر ثانی کرنے کی اپیل کی تھی۔

مرزا طاہر حسین گزشتہ اٹھارہ سال سے ایک ٹیکسی ڈرائیور جمشید خان کے قتل کے جرم میں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

مرزا طاہر حسین ٹیکسی ڈرائیور کے قتل سے انکار کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ٹیکسی ڈرائیور نے ان سے جنسی زیادتی کرنے کی کوشش کی تھی۔

ملزم مرزا طاہر حسین کی اپیل سپریم کورٹ رد کرچکی ہے اور صدر نے بھی ان کی رحم کی اپیل پہلے مسترد کردی تھی اور ان کی پھانسی پر چار بار عمل درآمد روک دیا تھا۔

ادہر مقتول ڈرائیور کے چچا صحبت خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صدر کے فیصلے کو پاکستانی عدالتوں کی توہین قرار دیا اور کہا کہ وہ اس بارے میں قانونی چارہ جوئی کے لیے اپنے وکیل سے مشاورت کریں گے۔

یاد رہے کہ مرزا طاہر کو معاف کرنے کے لیے مقتول کے اہل خانہ کے پاس حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین اور کئی جرگے گئے تھے۔

اہل خانہ کو خون بہا دینے سمیت مختلف مراعات کی پیشکش بھی کی گئی تھی لیکن انہوں نے معاف کرنے سے انکار کردیا تھا۔


قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر قید کی سزا مروجہ قوانین کے تحت دن رات گنی جاتی ہے اور اکثر طور پر ملزمان بارہ برس کی قید کے بعد رہا کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مرزا طاہر حسین چونکہ اٹھارہ برس سے قید میں ہیں اس لیے انہیں کسی وقت بھی رہا کیا جاسکتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک سرکاری اہلکار کے حوالےسے کہا کہ اب یہ وزارتِ قانون پر منحصر ہے کہ مرزا طاہر حسین کو کب رہا کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں
چارلز: پشاور کا دورہ منسوخ
31 October, 2006 | پاکستان
مرزا کا مقدمہ: حصہ اول
10 November, 2006 | آس پاس
مرزا کا مقدمہ: حصہ اول
10 November, 2006 | پاکستان
مرزا کا مقدمہ: حصہ دوم
10 November, 2006 | پاکستان
’قاتل کو معاف نہیں کریں گے‘
11 November, 2006 | پاکستان
قصاص و دیت اور فوجداری نظام
23 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد