BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 April, 2007, 04:03 GMT 09:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چار سگے بھائیوں کو پھانسی ہو گئی

پھانسی کا پھندا
چاروں بھائیوں نے وصیت میں اپنے لواحقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ کبھی بھی کسی سے بدلہ نہ لیں اور نہ ہی تیش میں آئیں۔
ملتان سنٹرل جیل میں چار سگے بھائیوں کو اپنے تین چچاؤں کو ان کے خاندان کے تیرہ افراد سمیت قتل کرنے کے جرم میں بیک وقت پھانسی لگا دی گئی ہے۔


موضع موہری پورہ تحصیل کبیر والہ ضلع خانیوال کے رہائشی محمد اکرم، خدا بخش، محمد اقبال اور محمد اصغر اور ان کے والد اللہ دتہ کو خاندانی زمین کے تنازعہ پر تیرہ افراد کو قتل کرنے کے جرم میں ڈسٹرکٹ و سیشن جج خانیوال خالد میاں کی عدالت نے چھبیس جنوری سن دو ہزار میں تیرہ تیرہ بار موت کی سزا سنائی تھی۔ پھانسی پانے والے چاروں بھائیوں کے والد اللہ دتہ کچھ عرصہ قبل جیل میں انتقال کر گئے تھے۔

معافی مگر کس سے؟
 مقتولین کا پورا خاندان قتل ہو جانے کی وجہ سے وہ عدالت میں صلح کے لیے کسی کو بھی پیش نہ کرسکے جس کے بعد دوبارہ ان کے بلیک وارنٹ جاری کرتے ہوئے انہیں سترہ اپریل دوہزار سات کو پھانسی لگانے کے احکامات جاری کر دیئے گئے
ان پر الزام تھا کہ انہوں نے موہری پورہ میں واقع اپنی خاندانی زمین کے تنازعہ پر پندرہ اپریل 1999ء کو اپنے چچاؤں حاجی ہدایت اللہ، عبدالحمید اور حاجی بشیر کو خاندان کے تیرہ افراد سمیت کلہاڑیوں اور ٹوکوں سے ٹکڑے ٹکڑے کر کے قتل کر دیا تھا۔ مقتولین میں ایک ڈیڑھ سالہ بچی بھی شامل تھی۔

قتل کی اس واردات میں ہدایت اللہ اور ان کے تینوں بھائیوں کے خاندان کا ایک بھی فرد زندہ نہ بچ سکا جس کی وجہ سے علاقہ کے ایک معزز رانا شبیر کی فریاد پر پولیس نے تیرہ افراد کےقتل کی اس واردات کا پرچہ مقدمہ نمبر 1999/106 درج کیا۔ مقتول خاندان کو اہلیانِ علاقہ نے ان کی اس زمین میں دفن کیا جو اس سنگین واردات کی وجہ بنی تھی۔

اللہ دتہ اور ان کے تین بھائیوں میں 173 کنال موروثی زمین کا تنازعہ تھا۔ زمین کی تقسیم کے بعد اللہ دتہ اور ان کے بیٹوں کو یہ رنج تھا ہدایت اللہ نے باقی دو بھائیوں سے مل کر وہ چھ کنال رقبہ جو سب سے زیادہ قیمتی ہے اپنے پاس رکھ لیا ہے اور انہیں بنجر زمین ملی۔

تنازعہ
 اللہ دتہ اور ان کے تین بھائیوں میں 173 کنال موروثی زمین کا تنازعہ تھا۔ زمین کی تقسیم کے بعد اللہ دتہ اور ان کے بیٹوں کو یہ رنج تھا ہدایت اللہ نے باقی دو بھائیوں سے مل کر وہ چھ کنال رقبہ جو سب سے زیادہ قیمتی ہے اپنے پاس رکھ لیا ہے اور انہیں بنجر زمین ملی۔
ملزمان نے ڈسٹرکٹ و سیشن جج کی جانب سے سزائے موت کے سنائے گئے فیصلے کےخلاف عدالت عالیہ لاہور میں درخواست دائر کی ۔ عدالت عالیہ نے سات فروری دو ہزار پانچھ کو درخواست خارج کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی۔ مجرمان نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جو کہ تین اگست دو ہزار پانچھ کو مسترد ہو گئی ۔ صدر مملکت کو کی گئی رحم کی اپیل بھی اٹھائیس دسمبر دو ہزار چھ کو خارج ہونے کے بعد سات مارچ دو ہزار سات کے بلیک وارنٹ جاری کیے گئے۔

مجرمان نے صدر مملکت کو رحم کی ایک اور اپیل کرتے ہوئے مقتولین کے ورثا سے صلح کے لیے وقت مانگا جس پرصدر مملکت نے پھانسی کی سزا پر عملدرآمد روکتے ہوئے سیشن جج کے سامنے صلح کرنے کے لیے مجرمان کو مہلت دی۔ مقتولین کا پورا خاندان قتل ہو جانے کی وجہ سے وہ عدالت میں صلح کے لیے کسی کو بھی پیش نہ کرسکے جس کے بعد دوبارہ ان کے بلیک وارنٹ جاری کرتے ہوئے انہیں سترہ اپریل دوہزار سات کو پھانسی لگانے کے احکامات جاری کر دیئے گئے جس پر عملدرآمد کرنے کیلئے لاہورسےجلاد جان مسیح کو ملتان بلایا گیا ۔

منگل وار کی علی الاصبح ساڑھے پانچ بجے چاروں بھائیوں کو بیک وقت پھانسی دے دی گئی۔ ملتان جیل کے پھانسی گھاٹ میں بیک وقت چھ لوگوں کو پھانسی پر لٹکایا جاسکتا ہے۔

مجرمان سے سوموار کو خاندان کے پندرہ افراد نے آخری ملاقات کی۔ جیل حکام کے مطابق چاروں بھائیوں نے وصیت میں اپنے لواحقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ کبھی بھی کسی سے بدلہ نہ لیں اور نہ ہی تیش میں آئیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد