کالعدم تنظیم کے رکن کو پھانسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ پنجاب میں ملتان سینٹرل جیل میں بدھ کی صبح کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی کے کارکن شفیق الرحمان کو ایک شیعہ رہنما کو قتل کرنے کے الزام میں پھانسی دے دی گئی۔ ملتان سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ ملک مبشر احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ پھانسی صبح ساڑھے چار بجے لاہور سے آنے والے جلاد نے دی جس کے بعد شفیق الرحمان کی میت ان کے ورثا کے حوالے کردی گئی۔ پولیس کے مطابق شفیق الرحمن کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی کے کارکن تھے۔ جیل حکام کے مطابق شفیق الرحمن کی عمر تقریباً چالیس سال تھی اوران کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع وہاڑی سے تھا۔ سپرنٹنڈنٹ کے مطابق شفیق الرحمن کا پھانسی کے وقت کہنا تھا کہ وہ شہادت کی موت مر رہے ہیں۔ شفیق الرحمن اوران کے دو ساتھیوں کو نو جولائی انیس سو ستانوے میں بھکر پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ ان پر دریا خان میں شیعہ تنظیم تحریک جعفریہ کے ضلعی صدر سید اعجاز حسین شاہ کو قتل کرنے کا الزام تھا۔
انہیں ملتان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت سے ملنے والی سزائے موت لاہور ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور صدرِ پاکستان نے برقرار رکھی تھی۔ شفیق الرحمن کی گرفتاری کے فوراً بعد پولیس نے یہ دعوی بھی کیا تھا کہ شفیق الرحمن نے دوران تفتیش بتایا کہ وہ خیرپور ٹامیوالی میں متعدد شیعہ افراد کے قتل، ضلع خانیوال میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنےوالے ڈپٹی کمشنر رضا علی کے قتل اور ملتان میں ایرانی قونصلیٹ پر حملہ میں متعدد افراد کی ہلاکت کے واقعات میں بھی ملوث تھے۔ انیس سو چھیانوے میں قائم ہونے والی لشکر جھنگوی کالعدم سپاہ صحابہ سے الگ ہونے والے کارکنوں کی تنظیم تھی جس کی بنیاد ریاض بسرا اور اکرم لاہوری نے رکھی تھی۔ چودہ اگست سنہ دو ہزار ایک میں حکومتِ پاکستان نے اسے ممنوعہ تنظیم قرار دے دیا تھا۔ | اسی بارے میں پنجاب: دو دن میں سات پھانسیاں26 July, 2006 | پاکستان اجتماعی زیادتی کے مجرموں کو پھانسی18 July, 2006 | پاکستان گوجرانوالہ: تین افراد کو پھانسی04 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||