BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 November, 2007, 14:37 GMT 19:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گھریلو تشدد کی زد میں روسی خواتین
فائل
معروف پوپ سٹار ولیریا نے اپنی کتاب میں ذاتی زندگی پر مبنی گھریلو تشدد کا احوال بیان کیا ہے
انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق روس میں فی گھنٹے ایک عورت اپنے شوہر یا ساتھی کے ہاتھوں موت کی شکار بنتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق خواتین کے خلاف روس میں گھریلو تشدد عام بات ہے۔

گزشتہ برس روس میں پندرہ ہزار سے زائد مردوں کو اپنی بیوی کے ساتھ تشدد برتنے کےلیے مورد الزام ٹھرایا گیا اور ان کے خلاف جرائم کا مقدمہ بھی دائر کیا گيا تھا۔

خواتین کے درمیان بیداری کی مہم چلانے والے لوگوں کا کہنا ہےکہ یہ اعداد و شمار حقا‏ئق کا صرف ایک پہلو ہیں اور مکمل سچائی اس سے بھی بھیانک ہے۔

روس کے معاشرے میں گھریلو تشدد ایک’معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے بہت کم ہی خواتین گھریلوتشد کے خلاف پولیس تھانے میں رپورٹ درج کراتی ہيں اور اس سے بھی بہت کم خواتین عدالت تک جاتی ہیں۔‘

چند برس قبل روس میں گھریلو تشدد سے جڑے معاملے نے بین الاقوامی شہرت حاصل کی تھی جب معروف پاپ سٹار ولیریا نے اپنی کتاب میں ذاتی زندگی پر مبنی گھریلو تشدد کو بیان کیا تھا۔

فائل
روس میں عورت کے ساتھ گھریلو تشدد معمولی معاملہ سمجھا جاتا ہے
بی بی سی روسی سروس نے گھریلو تشدد کا شکار بننے والی بعض خواتین سے بات کی جو تشدد کے بعد زندہ بچ گئی تھیں۔ان خواتین کی سلامتی کے پیش نظر ان کے نام تبدیل کردیے گئے ہيں اور ان کی تصویر کو ایسے پیش کیا گيا ہے کہ ان کی شناخت ممکن نہ ہو سکے۔

اکرتیا
’میرے شوہر جب دفتر سے کام کر کے واپس آتے تھے تو اکثر نیم نشے میں ہوتے، اور وہ تھورٹی سی غلطی پر بھی مجھے بہت مارتے تھے۔ جیسے اس بات پر کہ گھر سے کچڑے کو باہر نہيں نکالا یا کھانے کے وقت ’سوپ‘ گرم نہیں ہے۔

’پہلے غصہ میں وہ ماتھے پر پیالے کو ہلکے سے پھینک دیتےاور پھر زور سے پھینکتے۔ یہی طریقہ اپناتے رہے اور بعد کے ایام میں وہ پیالے سے زور زور سے وار کرتے۔

’میں کیوں انہیں چھوڑ نہيں سکی؟ کیوں کہ میرے شوہر اور ہم لوگوں کے دوست اور رشتے دار مجھ سے کہتے رہے کہ میں کیسے اپنے تین بچوں کے ساتھ اکیلی رہ سکتی ہوں۔ دوست و احباب یہ بھی کہتے رہے کہ سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہے۔ پھر کیا کرتی میں نے روز کی پٹائي اور بے عزتی کو زندگي کا حصہ سمجھ کر قبول کر لیا۔

تجربہ
 یہ سب کنویں کی ایک مچھلی کی طرح تھا کہ آپ چلائیں اور آواز لگائیں لیکن آپ کی آواز سننے والا کوئی نہيں۔ سب یہی کہہ رہے تھے کہ یہ کوئی بڑا معاملہ نہيں ہے بلکہ یہ تمہار اذاتی معاملہ ہے۔
اکرتیا
’یہ سب کنویں کی ایک مچھلی کی طرح تھا کہ آپ چلائیں، آواز لگائیں لیکن آپ کی آواز سننے والا کوئی نہيں۔ سب یہی کہہ رہے تھے کہ یہ کوئی بڑا معاملہ نہيں بلکہ یہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔

’آخری وقت جب اس نے مارا تھا تو مجھے اسپتال میں ہوش آیا تھا۔ تشدد سے ابھرنے کے بعد میں نے سوچا کہ کیا کروں، میں نے پایا کہ میرا شوہر مجھے اس لیے مارتا تھا کیوں کہ میں بیوقوف تھی، اس کے مار کو برداشت کرتی تھی لیکن ایک دن میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں الگ رہوں گی۔ ایک آدمی ایک عورت کو جب پہلی بار مارتا ہے اور عورت خاموش رہتی ہے تو اسے حوصلہ ملتا ہے۔اور یہی تشدد کی وجہ ہے۔‘

لیوڈ ملا

فائل
روس میں گھویلو تشدد معمولی واقعہ مانا جاتا ہے
’جب میرے شوہر نے بری طرح مارا اور میں ایک ماہ تک اسپتال میں زیر اعلاج رہی۔اس دوران پولیس، تفتیشی ادارے اور میرا سابق شوہر مجھ سے یہ کہتا رہا کہ میں اس معاملے کو یہیں دبا دوں۔ میں کسی کو یہ نہیں بتاؤں کہ میرے ساتھ کیا ہواہے۔

’پولیس کو امید تھی میں اپنا مقدمہ واپس لے لوں گی۔ جب اسے معلوم ہوا کہ میں خود بھی پولیس محمکہ میں کام کرتی ہوں تو اس نے مجھے کلیگ کی حیثیت سے سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ سب وقت کی بربادی ہے اور گھریلو تشدد کے متعلق تحقیقات کرنے سے کوئی مراعات نہيں ملتی ہیں۔

’میرے پڑوس میں زيادہ تر لوگون نے میرے اس قدم سے نااتفاقی ظاہر کی اور سب کا کہنا تھاکہ یہ گھریلو معاملہ ہے اور اس عوام کے سامنے نہيں لے جانا چاہیے۔

’اگر میں اپنے شوہر سے مطاقبت نہيں رکھ پا رہی ہوں تو اس کے لیے کلی طور پر میں ہی ذمہ دار ہوں اور اگر وہ مجھے مارتا ہے تو بھی اس کی ذمہ داری مجھ پر ہی عائد ہوتی اور یہ کہا جاتا کہ میں یہ بھی نہيں جانتی کہ کیسے مرد کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے۔

’گھریلو تشدد سے جڑے قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور حکومت کو ایسے معاملے میں خواتین کی طرف داری کرنی چاہیے۔‘

ماشا

فائل
میرے شوہر نےمجھے مارا اور بچوں کے سامنے غیر فطرتی طور پر جنسی زيادتی کی تو میں ٹوٹ گئي۔
’میری شادی شدہ زندگی کی شروعات نہایت خوبصورت رہی۔ میں دو بچے کی ماں تھی، جب میرا شوہر زیادہ کمانے لگا تو وہ زندگی میں تبدیلی کا خواہش مند ہوگيا کیوں کہ میں صرف ایک گھریلو عورت تھی۔

’اس طرح اس کے سلوک میں تبدیلی آتی گئي اور اس نے مجھے مارنا شروع کر دیا، می‍ں کسی کو یہ بتانا نہيں چاہتی تھی، میں نے اپنے غم کو غلط کرنے کے لیے شراب پینا شروع کر دیا اور اس کے بعد اس نے مجھے ایک انسان کے طور پر دیکھنا بند کردیا۔

’ایک بار اس نے مجھے مارا اور بچوں کے سامنے غیرفطرتی طور پر ہمارے ساتھ جنسی زيادتی کی تو میں ٹوٹ گئي اور میں شراب کی عادی ہوگئی۔

’میرے شوہر نے پولیس کو میرے خلاف بہکا ر کھا تھا۔اچانک پولیس آئی اور مجھے باہر لے گئی۔ جب میں واپس آئی تو میں بغیر کسی کاغذات اور پیسے کے رہی۔

’میں کئی برسوں تک سینٹ پیٹرس برگ کی گلیوں میں اکیلے گھومتی رہی، اچانک میں بیمار پڑ گئی اور ڈاکٹر نے مجھے ایک خاتون سیل میں بھیج دیا۔ سیل نے میری مدد کی اور اس نے میرے کاغذات تیارکروائے اور تب جا کر میں نے ایک عارضی ہاسٹل میں نوکری کی جہاں میں رہ رہی ہوں۔

’میں نے اپنے بچوں سے جڑنے کی کوشش کی اور اپنے دوستوں کے ذریعہ تحفے بھیجا لیکن وہ مجھ سے ملنا نہيں چاہتے ہيں۔ میں اپنی زندگی سے خوش ہوں کہ میرے سرکے اوپر چھت ہے لیکن مجھے پتہ ہے کہ اس کی کوئی گارنٹی نہيں اور اس کا مجھے خوف ہے لیکن میں اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں سوچتی۔ میں دوبارہ بھی اس سے لڑ سکتی ہوں۔‘

روسی جوڑاسیکس کریں اور خوش رہیں
روس کے قومی دن پیدا ہونے والے بچوں کے والدین کو کار، ٹی وی اور دیگر انعام دیئے جائیں گے۔
سینٹ پیٹرزبرگماؤں کا احتجاج
’روسی فوجیوں کے جنسی استحصال کی شکایت‘
ایمنسٹی رپورٹ
روس میں بے قابو ہوتا نسلی امتیاز : رپورٹ
مظلوم عورتآج بھی مظلوم
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ عورت آج بھی مظلوم ہے۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد