الباز کے شوہر نے خود کو پیش کر دیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی ٹیلی ویژن کی ایک مشہور میزبان کے شوہر نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ سعودی ٹیلی ویژن کی اس میزبان نے اپنے شوہر پر الزام لگایا تھا کہ وہ انہیں جان سے مار دینا چاہتے تھے۔ سعودی عرب کی اس مشہور ٹی وی میزبان پر شوہر کی طرف سے تشدد کئےجانے پر ملک میں خواتین کے خلاف گھروں میں ہونے والے تشدد پر ایک عام بحث چھڑ گئی ہے۔ ٹی وی کی اس میزبان رعنائے الباز نے اخبارات کو اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ وہ ان کے زخمی چہرے کی تصویریں شائع کر سکتے ہیں۔ رعنائے الباز نے اپنے شوہر پر الزام عائد کیا تھا انہوں نے ان پر شدید تشدد کیا، انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی اور ان کے بچوں کو بھی اغواء کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنے پر مجبور تھیں کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ کہیں وہ انہیں طلاق دے کر ان سے بچے نہ چھین لیں۔ رعنائے الباز گزشتہ چھ سال سے ٹی وی پر ایک گھریلو پروگرام کی میزبانی کر رہی تھیں اور وہ اس حوالے سے سلطنت میں ایک جانی پہچانی اور پسندیدہ شخصیت کی مالک ہیں۔ بی بی سی کی نامہ نگار کم غطاس کا کہنا ہے کہ رعنائے الباز کا معاملہ سے سعودی عرب میں پہلی بار گھریلو تشدد کے معاملے کو ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل ہوئی ہے۔ غطاس کا کہنا ہے کہ سعودی معاشرہ انتہائی روایتی ہے اور اس میں اسلامی شرعی قوانین کا سختی سے نفاذ کیا جاتا ہے اور یہاں عزت اور نمائش و نمود کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بالعموم اس معاشرے میں گھریلو تشدد، زنا اور ایڈز جیسی بیماریوں کے ہونے کو تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔ انگریزی اخبار عرب نیوز میں کام کرنے والی عبیر مشخاص کا کہنا ہے کہ ’یہاں تصور یہ ہے کہ بیوی کو شوہر کو فرمابردار ہونا چاہیے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ بالعموم یہاں اس طرح کے معاملات کہیں رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||