ایشیائی گھرانوں میں تشددبڑھ گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینیڈا میں جنوبی ایشیائی کمیونٹی میں سرگرم تنظیموں کے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ تین سال میں گھریلو تشدد کی شکایت کرنے والی خواتین کی تعداد میں ساٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تنظیموں کے مطابق کینیڈا میں تشدد کا نشانہ بننے والی جنوبی ایشیائی خواتین میں سے اسّی فیصد خواتین بھارت اور پاکستان سے تعلق رکھتی ہیں۔ کینیڈا میں تارکین وطن کی بڑی تعداد صوبہ انٹاریومیں آباد ہے اور ان کی تعداد میں اضافے کے ساتھ عورتوں پر تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ لہذا اب صوبائی حکومت نے خواتین کو تشدد سے بچانے کے لیۓ ایک سو چون مختلف زبانوں میں دن رات بذریعہ ٹیلیفون مدد فراہم کرنا شروع کی ہے۔ بحیثیت مجموعی کینیڈا میں ہرسال تقریبا ساٹھ خواتین اپنے شوہروں کے ہاتھوں قتل ہوجاتی ہیں لیکن جنوبی ایشیائی خواتین گھریلو تشدد اور ایسے ہی دیگر سماجی مسائل کا خاص طور پر شکار ہوتی ہیں۔ خواتین کے حقوق کے لیئے کام کرنے والے ادارے ’ویمن کرائسز سنٹر‘ کے مطابق انیس سو ننانوے اور دو ہزار چار کے دوران کینیڈا میں چھ لاکھ ترپن ہزار خواتین کو اپنے موجودہ یا سابق شوہروں اور مرد ساتھیوں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننا پڑا۔ اگرچہ گھریلو تشدد کا شکار مرد بھی ہوتے ہیں تاہم ایسے واقعات میں زخمی ہونے والی خواتین کی تعداد مردوں کی نسبت دوگنا ہے۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر جیمم مارتھ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گھریلو تشدد کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ’ کوئی ایک فرد، گھر میں رہنے والے ایک یا تمام افراد کو اپنا تابع بنانا چاہتا ہے۔ اور زیادہ تر ایسا مردوں میں ممکن ہے۔ ان کے مطابق کینیڈا میں امیگریشن اور نوکری کے مسائل بھی ان واقعات کی وجوہات بنتے ہیں۔ گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والی جنوبی ایشیائی خواتین کی مدد کے لیئے قائم ادارے ’وکٹم فار پیل سروس‘ کے مطابق بعض افراد گھریلو تشدد پر مذہب اور ثقافت کا پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ’ایشیائی کمیونٹی کے لیئے مخصوص سروس کی ضرورت ہے کیونکہ شادی کے بعد آنے والی بیشتر خواتین انگریزی نہیں بول سکتیں اس لیئے اگر گھریلو تشدد سے متعلق کوئی سروس پہلے سے موجود بھی ہے تو وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتیں۔‘
گزشتہ چھ ماہ کے دوران سکھ کمیونٹی کی بڑی آبادی والے صوبے برٹش کولمبیا میں چار خواتین کو ان کے شوہروں نے قتل کیا۔ یہاں تک کہ گزشتہ سال اکتوبر میں وینکوور کے نواح میں ایک ہفتے کے دوران تین شوہروں نے اپنی اپنی بیویوں کومبینہ طورپر قتل کر دیا تھا۔ وینکوور میں ایک خاتون گرجیت کور کو اس کے شوہر نےمبینہ طور پر سر میں گولیاں ماریں جس سےاس کی بینائی چلی گئی۔ بعد میں پرم جیت نے خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی۔ ایک تیس سالہ سکول ٹیچر منجیت پنگالی کی مبینہ طور پرجلائی ہوئی لاش سمندر کے کنارے سے ملی تھی۔ اس سال فروری کے مہینے میں تینتیس سالہ خاتون امن پریت کور کی لاش اس کے گھر کے تہہ خانے سے برامد ہوئی جبکہ ایک پاکستانی نژاد ناگرہ نامی وکیل نے ٹورانٹو کے نواحی شہر برامپٹن میں اپنی بیوی کومبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ ٹورانٹو میں تیس ہزار کے لگ بھگ ایشیائی آبادی والے علاقے تھارن کلف میں کام کرنے والے پاکستانی نژاد سماجی کارکن عثمان شفیق کا کہنا ہے کہ کمیونٹی میں طلاق کی شرح اور سنگل پیرنٹ کی تعداد میں بھی بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ’اس وجہ سے کئی بچے سرکاری تحویل میں چلے گۓ ہیں جبکہ ان کےوالدین بچوں سے دور ہونے کی وجہ سے نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔‘ گزشتہ دنوں وینکوور میں جنوبی ایشیائی خواتین نے گھریلو تشدد کے خلاف ایک مظاہرہ بھی کیا جس کا اہتمام ’ساؤتھ ایشین ویمن اگینسٹ میل وائلینس‘ اور تشدد کی شکار خواتین کو پناہ دینے والے فلاحی ادارے ’وینکوور ریپ ریلیف اینڈ ویمن شیلٹر‘ نامی تنظیم نے کیا تھا۔ مظاہرے میں وینکوور کے علاوہ ٹورانٹو، وینی پیگ اور دیگر کئی شہروں سے بھی سماجی تنظیموں کی رکن جنوبی ایشیائی خواتین نے شرکت کی۔ ’بہت ہوگئی‘ کے عنوان سے کیے جانے والے اس مظاہرے میں سات سو سے زائد جنوبی ایشیائی خواتین نے شرکت کی۔ خواتین نے بڑے بڑے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’جیو اور جینے دو‘ اور ’پرانی سوچ بدلو‘ کے نعرے درج تھے۔ وینکوور میں ’ساؤتھ ایشین ویمن اگینسٹ میل وائلینس‘ نامی تنظیم کی بانی و سربراہ ڈیزی کلیر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’ شمالی امریکہ میں ہر تین میں سے ایک عورت شوہر کے تشدد کا نشانہ بنتی ہے۔گھریلو تشدد کی وجہ سے ہر سال کینیڈا میں ساٹھ سے زائد خواتین ہلاک ہوجاتی ہیں جن میں جنوبی ایشیائی خواتین کی تعداد بارہ سے پندرہ کے درمیان ہے۔
انہوں نے کہا کہ ساؤتھ ایشین مردوں کے عورتوں پر تشدد کے واقعات دوسری کمیونٹیوں کی طرح ہیں مگر گزشتہ چند برسوں میں بیویوں کو قتل کرنے کی وارداتوں میں شدت آنے سے جنوبی ایشیائی خبروں کا مرکز بن گۓ ہیں۔ بھارتی نژاد کینیڈین رکن پارلیمنٹ اجل دسانج نے بھی مظاہرین سے خطاب میں کہا کہ ’ہماری عورتوں کو چاہیۓ کہ اس ترقی یافتہ معاشرے میں اپنا مقام حاصل کرنے کے لیۓ ہر ممکن اقدام کریں۔‘ مظاہرے میں شریک ایک خاتون کارا گاکھال کا کہنا تھا کہ انیس سو چھیاسی میں ان کی کزن رجوار گاکھال اور اس کے خاندان کے آٹھ افراد کو اس کے سابق شوہر نے قتل کردیا تھا۔اور اس کے بعد قاتل نے خود کشی کر لی تھی۔ مظاہرے میں شریک ایک خاتون خدیجہ نے کہا کہ یہ مسئلہ انتہائی گھمبیر ہو گیا ہے اور اب اس پر صرف افسوس یا ہمدردی کے علاوہ عملی اقدام کر نے کی ضرورت ہے۔ ریفیوج سینٹر میں رہنے والی گھریلو تشدد کی شکار ایک خاتون نے نام ظاہر نہ کرنے کی بنا پر بتایا کہ وہ شادی کے بعد پاکستان سے کینیڈا آئیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا ’ میرا شوہرہمیشہ شراب پی کرگھر آتا تھا۔ اس کی شکایت پاکستان اپنے گھر والوں سے نہیں کر سکتی تھی۔ اس کے تشدد سے تنگ آ کر اب میں یہاں آگئی ہوں اور انگریزی سیکھ کر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کر رہی ہوں۔ پردیس میں یہ دن بھی دیکھنے پڑیں گے کبھی سوچا بھی نہیں تھا‘۔
گزشتہ دنوں میں خواتین پر تشدد کے روک تھام کے لیۓ پاکستانی نژاد تارکین وطن کی سماجی تنظیم ’ فیملی آف دی ہارٹ‘ اور فلاحی تنظیم ’رحمہ گروپ‘ نے یونیورسٹی آف ٹورانٹو میں ایک سیمینار بھی منعقد کیا۔ سیمینار میں نـجیب کاظمی،طلعت معین الدین، ڈاکٹر خالد سہیل، نجمہ شاکر، ہما ناصر، انوجا پتھون، عارف رضا، عامرہ احمد اور صلاح الدین نے اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں حاضرین کے سوالوں کے جواب دیے۔ سیمینار کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ماہر نفسیات اور سماجی کارکن کمیونٹی میں آگاہی کے پروگرام وسیع سطح پر تشکیل دیں تاکہ ذہنی تناؤ کے سبب ٹوٹٹے گھرانوں کو بچایا جا سکے۔ سیمینار میں ہندو، مسلمان اور سکھ کمیونٹی کے علاوہ کثیر تعداد میں دیگر کینیڈین افراد بھی شامل تھے۔ حاضرین نے عبادت گاہوں، میڈیا، سماجی پروگراموں اور کمیونٹی سینٹروں کے ذریعے گھریلو تشدد کے بارے میں شعور بیدار کرنے کی کوششوں کو سراہا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||