خواتین کے لباس پر آسٹریلیا میں تنازعہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا کے سینئر مسلمان عالم شیخ تاج الدین الہلالی کے ایک خطبہ پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ اس خطبے کے متن کو ایک آسٹریلوی اخبار ’دی آسٹریلین‘ نے چھاپا ہے اور اس میں شیخ الہلالی نے کہا ہے کہ جو عورت اپنا سر نہیں ڈھکتی اپنے اوپر کسی جنسی زیادتی ہونے کی صورت میں خود ذمہ دار ہے۔ یہ خطبہ شیح الہلالی نے پچھلے ماہ سڈنی میں دیا تھا۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ ’اگر آپ گوشت سے بھری تھالی بغیر ڈھکے ہوئے باہر رکھ دیں گے تو ظاہر ہے کہ بلیاں اس کی طرف آئیں گی اور سامنے رکھے گوشت کھا لیں گی۔ تو اس میں قصور بلیوں کا ہے یا اس کھلے گوشت کا؟‘ شیخ الہلای کے مطابق بلیوں کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا بلکہ کھلے گوشت کو۔ ’اگر عورت اپنے گھر میں، اپنے کمرے کے اندر حجاب پہنے رہے تو کوئی مسئلہ نہ ہو۔‘ شیخ نے ان خواتین کی بھی مذمت کی جو میک اپ استعمال کرتی ہوں یا سڑک پر ’مٹک کر چلتی ہوں‘ کیونکہ وہ بھی مردوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین یہ سب کچھ کرتی ہیں تو مرد اس صورت میں بے کس ہوتے ہیں اور پھر بقول شیخ الہلالی ’آپ کو عدالت میں کوئی ایسا بے رحم جج مل جاتا ہے جو پینسٹھ سال کی سزا سنا دیتا ہے۔‘ آسٹریلیا میں حکومت کے علاوہ کئی مسلمان خواتین نے شیخ الہلالی کی اس بات پر ان پر تنقید کی ہے۔ جنسی بنیادوں پر امتیازی سلوک کی کمشنر پرو گوارڈ نے کہا ہے کہ شیخ کو ملک بدر کر دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ شیخ کا یہ کہنا جرم پر ا کسانے کے مترادف ہے کیونکہ ’مسلمان مرد عدالت میں اس مذہبی رہنما کی باتوں کا حوالہ دیں گے۔‘ آسٹریلیا کے وزیر خزانہ پیٹر کوسٹیلو نے کہا ہے کہ آسٹریلیا کے مسلمانوں کو شیخ الہلالی کی باتوں کی سخت مذمت کرنی چاہیے کیونکہ ’اگر ایک مذہبی رہنما آپ کو بتائے کہ آپ نے جو زیادتی کی ہے اس کے آپ ذمہ دار نہیں ہیں تو آپ اس کو کوئی خاص برا نہیں سمجھیں گے۔‘ تاہم شیح تاج الدین الہلالی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شیخ کے الفاظ کو غلط سمجھا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شیح کی یہ باتیں جنسی بے وفائی سے متعلق تھیں جنسی زیادتی سے نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خطبہ ان افراد کے بارے میں تھا جو شادی کے باہر جنسی تعلقات رکھتے ہیں اور جو بیہودہ قسم کا لباس پہنتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’نقاب بہتر تعلقات کے درمیان حائل‘05 October, 2006 | صفحۂ اول ’باپردہ ٹیچر کو فارغ کردیں‘15 October, 2006 | آس پاس برطانیہ میں مسلمان بیروزگار و پسماندہ15 May, 2006 | آس پاس برطانوی مسلم کیا سوچتے ہیں؟01 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||