یہ کیسے یقینی بنایا جائے کہ عورتیں گھریلو تشدد کے واقعات کی رپورٹ کریں؟ اس موضوع پر عالمی سطح پر کی جانے والے پہلی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تشدد کی عام ترین شکل گھریلو تشدد ہے۔ صحت کے عالمی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کی جانب سے شائع کی جانے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی علاقوں میں ستر فیصد تک عورتیں گھریلو یا جنسی تشدد کا شکار بنتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق عورتیں اس کے بارے میں بات کرنے سے کتراتی ہیں اور کئی معاشروں میں شوہر کی نافرمانی پر مار پیٹ کو درست سمجھا جاتا ہے۔ آپ کی اس پر کیا رائے ہے؟ گھریلو تشدد کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہیں؟ کیا اسے ختم کیا جاسکتا ہے؟ یہ کیسے ممکن بنایا جائے کہ گھریلو تشدد کا شکار ہونے والے اس پر آواز اٹھائیں اور ایسے واقعات کو رپورٹ کریں؟ کیا آپ خود یا آپ کے جاننے والے کبھی گھریلو یا جنسی تشدد کا شکار ہوئے ہیں؟ اپنی کہانیاں اور آراء ہمیں لکھ بھیجئے۔ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
ہارون رشید، سیالکوٹ: یہ سماجی مسئلہ تو ہے ہی لیکن ساتھ ہی ساتھ نفسیاتی بھی ہے۔ جب تک میاں بیوی ایک دوسرے کو نیچا دکھاتے رہیں گے تشدد ہوتا رہے گا۔ میری شادی کو کوئی دو سال ہوئے ہیں لیکن آج تک میں نے اپنی بیوی کو مارنا تو دور کی بات ہے شاؤٹ بھی نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے اسے اس کا جائز مقام دیا ہے ( اسلام کے مطابق) اور اس نے مجھے میرا مقام دیا ہے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے سب سے بہترین دوست ہیں۔ ہم اپنی لائف کی ہر ایک بات شئر کرتے ہیں چاہے وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ صرف محبت، حق اور صحیح مقام دینے سے ہی ایک دوسرے کو خوش رکھا جا سکتا ہے۔مہرین دوسانی، ٹورنٹو، کینیڈا: آج کل جہاں عورت اپنے حق کے لیے بہتر طور پر لڑ سکتی ہے وہاں عورتوں کی آزادی کے نام پر اسلامی روایات سے دوری، لڑائی جھگڑا اور زبان درازی بھی عام ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جو مرد گھر میں سخت رویہ نہیں رکھتے ان کی بہت بڑی تعداد گھریلو تنازعات کا شکار رہتی ہے جس میں کبھی کبھار تشدد بھی شامل ہو جاتا ہے۔ طارق محمود، سرگودھا: تعلیم کی کمی اور آج کل کی مہنگائی ایسے عوامل ہیں جو انسان کو ذہنی دباؤ کا شکار کرتے ہیں اور جب کوئی راستہ نظر نہ آئے تو غصہ بڑھ جاتا ہے۔ اس غصے کو نکاسی چاہیے ہوتی ہے اور انسان اس کو گھر میں استعمال کر لیتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دن بدن تشدد بڑھ رہا ہے۔ عبدالغفور،ٹورانٹو: بےجوڑ شادیاں، معاشی حالات اور جہالت تشدد کی بنیادی وجوہات ہیں اور اس کے علاوہ ایک اور بڑی وجہ رشتوں میں اعتماد، ایثار اور قربانی کے جذبے کی کمی ہے۔ عطیہ عارف، کینیڈا: میرے خیال میں عورتیں جو تشدد سہتی ہیں ان کو طلاق کا خوف ہوتا ہے۔ انہیں خوف ہوتا ہے کہ طلاق ہو گئی تو وہ اور بچے بے سہارا ہو جائیں گے اور معاشرہ بھی مرد کو کم اور عورت کو زیادہ غلط سمجھتا ہے۔ اس کی وجہ صرف تعلیم کی کمی ہے۔ خان پٹھان، ٹورانٹو: میاں بیوی میں جھگڑا عام سی بات ہے۔ جھگڑا اس لحاظ سے اچھا ہے کہ صلح صفائی ہو جاتی ہے اور انسان کُڑھتا نہیں رہتا۔ ہمارے معاشرے میں مرد کو اعلٰی سمجھا جاتا ہے اور اسے بتایا بھی یہی جاتا ہے مگر خواتین کو بھی سمجھنا چاہیے کہ مردوں کو زیادہ تنگ نہ کریں۔ امریکہ سے لےکر نیپال تک سب کا یہی حال ہے، اس میں صرف پاکستان کو دوش دینا صحیح نہیں۔ تیشاہ، اٹک: یہ لوگوں نے جو اسلام کو گھریلو تشدد روکنے کا حل بتایا ہے انہوں نے غالباً سورہ نساء کی آیت نمبر چونتیس نہیں پڑھی۔ اس آیت میں اللہ مرد کو عورت کا حاکم قرار دیتا ہے اور اس کے کنڈکٹ کو درست رکھنے کے لیے اگر ضروری سمجھا جائے تو تشدد کا بھی حکم دیتا ہے۔ نوید روک، کینیڈا: اس کی وجہ لڑکوں کی تربیت ہے جو والدین دیتے ہیں کہ تم اپنی بہن سے افضل ہو۔ جب وہ لڑکا شوہر بنتا ہے تو وہ اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھاتا ہے۔ یہ ظلم پاکستان میں سب سے زیادہ ہے اور تعلیم کی کمی اور اسلام سے دوری بھی ہے۔ عورت کو چاہیے کہ وہ خود مضبوط ہو، تعلیم حاصل کرے اور اپنے اوپر ظلم نہ ہونے دے۔ شہریار، سنگاپور: تشدد گھریلو ہو یا معاشرتی ، عورت اور بچے دونوں ہی اس کا برسوں سے شکار ہیں اور ہوتے رہیں گے ، چاہے اسے گھر کا سرپرست کرے یا اسے معاشرہ کرے۔ تشدد کو روکنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ لوگوں میں آزادی کا شعور بیدار کیا جاۓ۔ آزادی کو صرف اخلا قیات اور نظم وضبط کا پابند کیا جا سکتا ہے۔ روشا خیال، پاکستان : باقی دُنیا کا تو پتا نہیں مگر پاکستان میں تو ڈومیسٹک وائلینس کی وجہ ہمارے مولوی ہیں۔ اگر ان مولویوں کی آشیرواد نہ ہو تو پاکستان سے اس لعنت کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ زرمین شیروانی، کراچی: انڈین ڈراموں اور فلموں پر پابندی لگا دیں جو عورتوں کے لیے لڑائی جگھڑے کے نت نئے کورس کراتے رہتے ہیں جس کا سرٹیفیکیٹ انہیں تشدد کی صورت میں ملتا ہے۔ عمر کلثوم قریشی، امریکہ: پاکستان کے مُلا حضرات اگر اسلام کو دولت اور حکومت حاصل کرنے کے بجائے تعلیم پر توجہ دیں تو اس قسم کے واقعات کی روک تھام ہو سکتی ہے۔ نامعلوم: عورتوں پر تشدد صرف پاکستان نہیں ساری مغربی دنیا میں ہوتا ہے مگر پاکستان اور انڈیا کے مخصوص حالات میں سب سے بہتر یہی ہے کہ فلاحی تنظیموں، برادری اور مقامی کونسلروں کے ذریعے تشدد کرنے والوں پر دباؤ ڈالا جائے۔ مغربی ممالک کے برعکس یہاں کی پولیس اس قابل نہیں کہ عورتوں کو انصاف دلا سکیں۔ اگر اس معاملے میں پولیس کو فری ہینڈ دیا گیا تو کرپشن کا ایک اور دروازہ کھل جائے گا۔ سیما جنبی، انڈیا: مجھے یقین ہے کہ نہ کسی مسلم دوست کو یہ سننے کا حوصلہ ہے اور نہ ہی بی بی سی کو شائع کرنے کی جرات ہے مگر میں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات عورت پر تشدد کے خلاف ہیں وہ صرف قرآن کا ترجمہ پڑھ لیں۔ قرآن نافرمانی کرنے پر عورتوں کو مارنے اور ان کو گھر میں قید کر دینے کی صلاح دیتا ہے۔ مرزاممتاز بیگ، پاکستان: سیما جنبی صاحبہ سےگزارش ہے کہ ہرمعاشرے میں غلط کام کی سزا ہوتی ہے۔ مثلاً بغیر ٹکٹ کے سفر کرنے والے کو جرمانہ ہوتا ہے مگر اگر کوئی انسپکٹر خامخواہ جرمانہ کر دے تو یہ غلط ہے۔ بالکل اسی طرح اگر کوئی عورت غلط کام کرتی ہے اور تنبیح کے باوجود باز نہیں آتی تو شریعت میں اس کا جواب موجود ہے۔ مگر اس کا غلط استعمال کرنے والا یقیناً مجرم ہے اس دنیا کا بھی اور اگلی دنیا کا بھی۔ غلام مصطفٰے، کویت: یہ زیادہ تر پاکستان کے دیہاتوں میں ہوتا ہے اور اس کی وجہ کم تعلیم ہے۔ جن لوگوں کے ساتھ یہ مسئلہ پیش آتا ہے انہیں چاہیے کہ وہ سامنے آئیں، مسئلے کو اٹھائیں تو انشاء اللہ ختم ہو جاۓ گا۔ افتخار احمد کشمیری ، لندن: تشدد گھریلو ہو ، مقامی ہو ، یا انٹرنیشنل ہو ، کبھی بھی سوچ نہیں بدل سکتا۔ تشدد سے جسم مجروح کیا جا سکتا، ختم کیا جا سکتا مگر خیالات اور احساسات ختم نہیں کیے جا سکتے۔ اس لیے تشدد کا فائدہ کی بجائے نقصان ہی ہوتا ہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ معراج احمد، امریکہ: ان مسائل کا واحد حل تعلیم کا فروغ ہے۔ نجف علی شاہ، بھکر، پاکستان: گھریلو تشدد کے پیچھے معاشی عوامل کا فرما ہیں۔ جمیلہ، پاکستان: گھریلو لڑائی میں زیادہ تر عورتوں کو ہی تشدد کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ اس کے خلاف قانون بنانے اور لوگوں میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے میڈیا، سکول اور سارے ذرائع استعمال کرنے چاہئیں تاکہ لوگوں کو عورت کا اصل مقام بتایا جائے۔ عارف قریشی، ٹنڈو محمد خان، پاکستان عورتوں کو مارنے کا کسی کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ عورتوں پرظٌلم کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ میرے گاؤں میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ سندھ میں جتنا ظلم ہو رہا ہے اس کا کوئی تصور ہی نہیں کر سکتا۔ جاوید ایوب، چین: گھریلو تشدد انسان کی وحشیانہ فطرت کا مظہر ہے۔ اس کی ایک وجہ تو مردوں کا احساس برتری اور عورت پر حکمرانی کا شوق ہے اور اس کے علاوہ معاشرے میں موجود معاشی اور سماجی مسائل بھی اس میں شامل ہیں۔۔ جمیل مقصود، بیلجیم: عورت پر تشدد کرنا ایک لعنت ہے۔ یہ صرف مسلمان ملکوں میں ہو رہا ہے جو قبائلی اور جاگیردارانہ نظام کی حمایت کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی برادری کو اس کے خاتمے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہیے۔ اختر علی، گوجرانوالہ، پاکستان: آج کی عورت کے لیے تعلیم سب سے ضروری چیز ہے۔ تعلیم یافتہ عورت پر ظلم کرنے کی کوئی ہمت نہیں کر سکتا۔ عورت کو خود آگے بڑھنا ہو گا اور اپنی بھلائی کے لیے کام کرنا ہو گا۔ اس سلسلے میں موجوہ حکومت نے کافی اچھے کام کیے ہیں۔ تلاوت بخاری، اسلام آباد، پاکستان: مثل مشہور ہے کہ گھر میں برتن بھی ٹکرا جاتے ہیں، میاں بیوی کا ٹکراؤ ہونا بھی ایک معمول کی بات ہے۔ مرد کا اگر ہاتھ چلتا ہے تو عورت کی زبان بھی کچھ کم کاٹ نہیں کرتی۔ اور پھر مشترکہ خاندانی نظام میں تو عورت عورت اور مرد مرد کے جھگڑے بھی ہو جاتے ہیں۔ اس کو صنف کی بنیاد پر تقسیم کر کے عورت کو مظلوم قرار دینا غلط ہے۔ ندیم مراد، جنوبی افریقہ: بات مذاق کی نہیں ہے مگر میں نے تو یہاں جنوبی افریقہ میں عورتوں کو مردوں سے لڑتے ہوئے دیکھا ہے حتٰی کہ تشدد کرتے بھی دیکھا ہے، مگر سب عورت کا ہی ساتھ دیتے ہیں۔ اچھی بات ہے۔ مقرب قیوم، یو کے: ہمارے یہاں گھریلو تشدد خواتین کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس میں جب خاندان کے دوسرے لوگ شامل ہو جاتے ہیں تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ لڑکے لڑکی کی زندگی میں دخل نہیں دینا چاہیے اور لڑکے کی ماں کی خدمت لڑکے کی اپنی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ زاھد خان، امریکہ: عورتوں پر تشدد ایک حقیقت ہے، اور یہ ہر ایک معاشرے کا حصہ ہے۔ لیکن بد قسمتی سے پاکستانی معاشرہ اس میں آگے ہے۔ عورت کو اسلام نے جسمانی طور پر کمزور پیدا کیا ہے، مرد کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اس سے مار پیٹ کرے۔ ہر شہر اور محلے میں اس قسم کے محکمے ہونے چاہئیں جو عورتوں کی شکایات پر کاروائی کریں۔ کرن احمد، کینیڈا: اس مرد زاد معاشرے میں عورتیں تو ہمیشہ سے مظلوم تھیں اور ہیں اور تب تک رہیں گی جب تک یہ مرد حضرات اپنی بڑائی کا ثبوت جسمانی تشدد کی بجائے انسانیت اور اسلام کی تعلیمات کے مطابق نہیں دیتے۔ عفاف اظہر، کینیڈا: یہ مسئلہ تو بہت پرانا ہے، حیرت ہے آپ کو یہ خیال اتنی دیر سے کیوں آیا، چلو آیا تو صحیح۔ اب ہم رائے کیا دیں۔ اس مسئلے پر عورت کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہے، چاہے وہ جتنی مرضی پڑھ لکھ جائے۔ شاہ شفیق، اٹک، پاکستان: دنیا میں ہر جگہ یہ کام ہو رہا ہے۔ یورپ میں بھی جہاں مذہبی اور معاشرتی آزادی ہے وہاں بھی عورتیں جنسی تشدد کا شکار ہو رہی ہیں۔ اسلا م نے جو حقوق عورت کو دیے ہیں ان پر عمل کیا جائے تو تشدد ختم ہو سکتا ہے۔ احمد حسنین، پشاور، پاکستان: مسلمان کلچر کے خاندانی نظام میں مرد و زن کی ذمہ داریاں واضع ہیں اور انہیں شادی سے پہلے پڑھ لینا چاہیے۔ یہ صرف تعلیم سے ہی ممکن ہے۔ آصف ججہ، کینیڈا: میرے خیال میں ملکوں اور لوگوں کی مالی حالت کا بھی اہم کردار ہے۔ دوسری اہم وجہ عورتوں میں تعلیم کی کمی ہے۔ غریب معاشروں میں مردوں کا غلبہ ہے اور عورتوں کو اپنے حقوق کا علم نہیں ہے۔ قانون پر عمل درآمد بہت کمزور ہے اور رواج بہت مضبوط ہیں۔ فیصل حفیظ، سعودی عرب: اس کی وجہ جہالت اور اسلام کا علم نہ ہونا ہے۔ ہم اس کا مقابلہ صرف اسلامی تعلیمات پر عمل کر کے ہی کر سکتے ہیں۔ نامعلوم: گھریلو تشدد زمانہ جاہلیت سے چلا آ رہا ہے۔ اس بارے میں اسلام میں واضع ہدایات ہیں۔ عورت کسی بھی حیثیت میں ہو اس پر مختلف وجوہات کی بنا پر تشدد ہوتا ہے۔۔ رائن اللہ میر، ابو ظہبی: میرے خیال میں اس کی بنیادی وجہ غربت اور جہالت ہے۔ اگر ہم غربت ختم کر سکیں تو 80 فیصد گھریلو تشدد کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اسی لئے امیر ملکوں میں یہ بہت کم ہے۔ سعدیہ سلام، نئی دلی، انڈیا: گھریلو تشدد کوئی نئی چیز نہیں۔ کل تک اس کی خبریں گھر کی چار دیواری سے باہر دیر سے آتی تھیں۔ اب ٹی وی اور انٹرنیٹ کی وجہ سے فوراً سامنے آ جاتی ہیں۔ ازالے کا واحد حل یہ ہے کہ تعلیم کے نظام کو شیخ، برہمن، ملا اور پنڈت کے شکنجے سے آزاد کرایا جائے۔ فرید اللہ، تخت بائی، پاکستان: گھریلو تشدد ختم کرنا ہمارے معاشرے کے بس کی بات نہیں۔ عنسہ، پاکستان: اگر قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو یہ باتیں بالکل نہ ہوں۔ اسلام نے مرد اور عورت کے حقوق مقرر کیے ہیں اور مرودں کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ان کی اپنی بھی بیٹیاں ہیں۔ جمال اختر، فیصل آباد، پاکستان: عورت کو ہمیشہ کمزور سمجھا جاتا ہے اس لیے ہمیشہ اس پر تشدد ہوتا رہتا ہے۔ یہ جہالت کی نشانی ہے۔ مرد اپنے آپ کو اعلٰی نسل کی چیز سمجھتا ہے جو کہ سراسر غلط ہے۔ دلشاد حبیب، گجرات، پاکستان: عورت پر تشدد کرنا اس وقت ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے اور دنیا میں کوئی بھی مرد اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتا۔ اس کا واحد حل قرآن اور سنت پر عمل کرنے میں ہے۔ یاسر حمید خان، کشمیر: بنیادی وجہ سسٹم کی خرابی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر ایسا ہے ہوتا ہے۔ اس کا حل صرف سوشلسٹ نظام سے ہی ممکن ہے۔ بابر راجہ، جاپان: میں ملک جاوید اقبال کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ اس کا خاتمہ صرف دینِ اسلام پر عمل پیرا ہونے سے ہی ہو سکتا ہے۔ اگر دین اور سنت پر عمل کیا جائے تو یہ نوبت نہیں آئے گی۔ اس سلسلے میں والدین کی تربیت کا بھی بہت اہم کردار ہے۔ شیبا رضا، کازکستان: یہ صرف اس صورت میں کنٹرول ہو سکتا ہے کہ تعلیم اور شعور بڑھایا جائے اور کلچر بدلا جائے۔ میں ایک پاکستانی عورت ہوں اور الماٹی میں کام کر رہی ہوں۔ میرا شادی کا تجربہ تلخ رہا۔ لیکن میں نے مقابلہ کیا۔ شروع میں میرے خاندان کے اکثر لوگ اس کے خلاف تھے۔ لیکن امام حسین بھی تو ظلم کے خلاف جنگ میں تنہا تھے لیکن آج وہ اکیلے نہیں ہیں۔ میرا وقت بھی آئے گا۔ محسن، بغداد: تشدد ظلم کی ایک قسم ہے اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے ورنہ ظلم سہنے والا بھی ظالم ہی کہلائے گا۔ احسن نواز چیمہ، لاہور: ضرورت پڑنے پر اگر مار بھی لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ پیار سے سمجھانے پر اگر کوئی نہ سمجھے تو اس کے ساتھ سختی کرنی چاہئے۔ محتشم سعید، آسٹریا: یہ کہنا کہ ستر فیصد عورتوں کے ساتھ گھریلو تدشش ہوتا ہے سراسر ناانصافی ہوگی۔ جہالت کی بنیاد پر بلاوجہ کی جانے والی ڈانٹ ڈپٹ واقعی قابلِ مذمت ہے لیکن بعض اوقات بچے کو جس آگ کے شعلے اچھے لگتے ہوں اور وہ انہیں چھونا چاہے، تو اس کے اپنے بھلے کے لئے زبردستی بھی روکا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ پہلے ترجیح بہرحال ہر مسئلے کو پرامن طری سے حل کرنا ہونی چاہئے اور زبردستی صرف آخری حل ہی ہے لیکن اگر یہ لازم ہوجائے اور اس کے لئے مکمل وجوہات موجود ہیں تو یہ چیز میاں بیوی کو آنے والی بہت سی دشواریوں سے بچا سکتی ہے۔  | ’میرا وقت بھی آئے گا‘  ہم جیسی عورتوں کو روکنے والے بہت سے ہمارے اردگرد ہیں اور اسی لیے میں سمجھتی ہوں کہ لوگوں کو ثقافتی طور پر باشعور بنانے کی اشد ضرورت ہے۔  شیبا رضا سید، قزاقستان |
شیبا رضا سید، قزاقستان: یہ صرف تبھی ممکن ہے کہ ہم لوگوں میں نہ صرف تعلیم اور آگہی بڑھائیں بلکہ انہیں ثقافتی طور پر باشعور بنائیں۔ میں ایک پاکستانی اور مسلمان لڑکی ہوں اور یہاں کام کررہی ہوں۔ میرا اپنا شادی کا بہت برا تجربہ ہے لیکن میں نے اپنے حصے کی جنگ لڑی۔ اس وقت میرے خاندان کی اکثریت میرے خلاف تھی لیکن میرا ایمان ہے کہ امام حسین اپنی جنگ میں اکیلے تھے لیکن سچ کے لئے لڑ گئے اور آج وہ اکیلے نہیں ہیں۔ وہ تمام قوموں کے لئے ایک مثال ہیں۔ میں نے بھی اپنے حق کے لیے قدم اٹھایا اور انشاءاللہ میرا وقت بھی آئے گا۔ ہم جیسی عورتوں کو روکنے والے بہت سے ہمارے اردگرد ہیں اور اسی لیے میں سمجھتی ہوں کہ لوگوں کو ثقافتی طور پر باشعور بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ فقیر حسین، پاکستان: بنیادی وجہ تعلیم کی کمی ہے اور دوسری وجہ جینریشن گیپ ہے۔ محبوب احمد، سرائے عالمگیر: خواتین پر تشدد کی بھرپور مذمت کرنی چاہیے لیکن میرے خیال میں زیادہ تر تشدد کی ذمہ دار کسی نہ کسی صورت میں خود عورت ہوتی ہے۔ عورتیں اگر ایک دوسرے کا احترام کریں تو اس میں کافی کمی واقع ہوسکتی ہے۔ رشید چانڈیو، لاڑکانہ: جی ہاں یہ صرف تعلیم جنسی برابری کی تربیت کے ذریعے ہی ختم ہوسکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اسے کسی حد تک ختم کیا جا سکتا ہے۔ علیم اختر، گجرات: نہ صرف اس بارے میں قانون ہونا چاہئے بلکہ اس پر سختی سے عمل درآمد بھی کرنا چاہیے۔ پھر گھر کے بزرگوں کو اسے ہاتھ سے روکنا چاہئے کیونکہ یہ درندگی ہے۔  | بڑوں کی ناکیں  ہم سب اپنا غصہ خواہ وہ دفتر کا ہویا اندرونی، اپنی بیویوں پر نکالتے ہیں۔ ہمارے بڑوں کی ناکیں ان کی بہنوں بیٹیوں کے دم سے اونچی رہتی ہیں۔  شیما صدیقی، کراچی |
شیما صدیقی، کراچی: گھریلو تشدد ہو یا اس کی کوئی بھی قسم یعنی جنسی، جسمانی یا ذہنی یہ کسی بھی بڑے گناہ سے کم نہیں۔ ہم میں سب سے اچھا وہی ہے جو اپنے کنبے کے ساتھ اچھا ہو۔ ہم سب اپنا غصہ خواہ وہ دفتر کا ہویا اندرونی، اپنی بیویوں پر نکالتے ہیں۔ ہمارے بڑوں کی ناکیں ان کی بہنوں بیٹیوں کے دم سے اونچی رہتی ہیں۔ نعیم خان، اسلام آباد: ہمارے معاشرے میں عورت کو وہ مقام حاصل نہیں ہوسکا جس کا اسلام نے حکم دیا ہے۔ گھریلو اور جنسی تشدد کے واقعات عام ہیں۔ ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں لڑکا لڑکی کی شادی ان کی مرضی کے خلاف کردی جاتی ہے اور بعد میں نبھاہ مشکل ہوجاتا ہے۔ میرے خیال میں عورتوں کے لئے ایک الگ عدالت ہونی چاہئے جس میں صرف ان کے مسائل حل کئے جائیں اور تشدد کے ذمہ دار افراد کو سخت سزائیں دی جائیں۔ زبیر، برطانیہ: اس کی سب سے بڑی وجہ جہالت اور مغربی میڈیا ہے۔ لوگ جو فلموں میں دیکھتے ہیں اسی کی کوشش گھر میں بھی کرتے ہیں جس کی بڑی ذمہ داری ہالی وڈ اور میڈیا پر عائد ہوتی ہے۔ جو مرد عورت پر ہاتھ اٹھاتا ہے وہ مرد نہیں، اگر اسے مردانگی دکھانی ہے تو جا کر جنگ میں لڑے۔ اگر مرد عورت کو قصور وار سمجھتا ہے تو یا تو علیحدہ ہوجائے یا سمجھوتا کرلے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: اس کی سب سے بڑی وجہ تو پاکستان میں تعلیم کی کمی ہے۔ دوسری وجہ وہ خواتین ہیں جن کا کردار درست نہیں ہوتا۔ پھر عورتوں کے دوسرے مردوں کے ساتھ تعلقات بھی ایک وجہ ہیں۔ ایک اور وجہ پسند کی شادی کا نہ ہونا ہے اور ایک وجہ کچھ مردوں کا ’نامرد‘ ہونا بھی ہوتا ہے کہ جو اپنی عورتوں کی جنسی خواہشات پوری نہیں کرپاتے تو تنگ آکر تشدد پر اتر آتے ہیں۔ پھر ظاہری خوبصورتی اور بدصورتی بھی ایک وجہ ہوسکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کے مسائل میں کمی تو آسکتی ہے مگر یہ ختم نہیں ہوسکتے۔ |