BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 April, 2008, 08:59 GMT 13:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
موت کی سزا میں چین سرفہرست
چین
چین میں ساٹھ سے زیادہ جرائم پر موت کی سزا لاگو ہوتی ہے
انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ چینی حکام نےگزشتہ سال کم سے کم چار سو ستر افراد کو موت کی سزا دی لیکن ممکنہ طور پر ہلاکتوں کی یہ تعداد آٹھ ہزار ہوسکتی ہے۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ چین میں خفیہ طور پر دی گئی پھانسیوں کی تعداد جن کو کہ ظاہر نہیں کیا گیا، سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں دی گئی زیادہ تر پھانسیوں کے پیچھے اولمپکس گیمز کی میزبانی کرنے والا ملک چین ہے۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں اٹھاسی فی صد پھانسیوں کے ذمہ دار صرف پانچ ممالک یعنی کہ چین، ایران، سعودی عرب، پاکستان اورامریکہ ہیں۔

ایمنسٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ ’موت کی سزا میں چھپے راز سے اب پردہ اٹھ جانا چاہیے۔‘

رپورٹ کے مطابق سن دو ہزار سات میں چوبیس ممالک میں کم سے کم بارہ سو باون افراد کو پھانسی کی سزا سنائی گئی جو کہ دو ہزار چھ کے اعداد وشمار سے قدرے کم ہے۔

چین کے بعد ایران دوسرے نمبر پر ہے جہاں گزشتہ سال تین سو سترہ افراد کو خفیہ طور پر سزا دی گئی ہے جس کے بعد سعودی عرب میں ایک سو تینتالیس پاکستان میں ایک سو پینتیس اور امریکہ میں بیالیس لوگوں کو یہ سزا دی گئی۔

 چین میں موت کی سزا کوعوام کی حمایت حاصل ہے لیکن حکومت اس نظام میں اصلاحات لانے کی کوششیں کررہی ہے۔اور گزشتہ سال حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ موت کی سزا کا حتمی فیصلہ صرف سپریم کورٹ ہی کر سکتی ہے

ایمنسٹی کی رپورٹ کے مطابق موت کی سزا دینے والے ممالک میں ایران، سعودی عرب اور پاکستان میں اس رجحان کا خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

جبکہ دنیا کے باقی ممالک میں موت کی سزا دینے کا تناسب کسی حد تک کم ہو گیا ہے۔

گزشتہ سال تقریبا تین ہزار تین سو سینتالیس افراد کو اکیاون ممالک میں موت کی سزا دی گئی جبکہ اب بھی ستائیس ہزار پانچ سو افراد موت کی سزا پر عملدر آمد کےانتظارمیں ہیں۔

موت کی سزا کے حوالے سے اپنی سالانہ رپورٹ میں ادارے نے لکھا ہے کہ گزشتہ سال چین میں موت کی سزا کسی بھی دوسرے ملک سے سب سے زیادہ ہے اور خبردار کیا ہے کہ ہلاکتوں کی صحیح تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی برطانیہ میں ڈائریکٹر کیٹ ایلن کا کہنا ہے کہ ’سب سے زیادہ موت کی سزا دینے کی وجہ سے چین ’گولڈ میڈل‘ پانے کا حقدار بن چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ’مصدقہ اندازے کے مطابق چین روزانہ اوسطاً بائیس افراد کو خفیہ طور پر موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے اور اس طرح اولمپک گیمز کے دوران یہ تعداد تین سو چوہتر ہوگئی ہے۔‘

چین میں ایسے جرائم کی تعداد ساٹھ ہے جس پر موت کی سزا دی جا سکتی ہے۔
بیجنگ میں میں بی بی سی کے نامہ نگار کوینٹن سومرویل کا کہنا ہے کہ’چین میں انصاف کی فوری فراہمی کی وجہ سے مجرم کو موت کی سزا سنائے جانے کے بعد ہفتوں میں اس پر عمل درآمد کر دیا جاتاہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’چین میں موت کی سزا کوعوام کی حمایت حاصل ہے لیکن حکومت اس نظام میں اصلاحات لانے کی کوششیں کر رہی ہے اور گزشتہ سال حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ موت کی سزا کا حتمی فیصلہ صرف سپریم کورٹ ہی کر سکتی ہے ۔ریاستی میڈیا کے مطابق اس فیصلے کے بعد دو ہزار سات کے صرف پہلے پانچ ماہ میں سزائے موت میں دس فی صد کمی آئی ہے۔‘

ان اعداد و شمار کے باوجود ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بین الاقوامی سطح پر سزائے موت کے خاتمے کے رجحان کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ سن دو ہزار سات میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اکثریتی ممالک نےسزائے موت کے خاتمے کی قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد