BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 April, 2008, 02:07 GMT 07:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چین پر ایمنسٹی کی نئی رپورٹ
تبت میں گزشتہ دنوں شدید عوامی احتجاج دیکھنے میں آیا ہے
انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ بیجنگ اولمپکس کی وجہ سے چین میں انسانی حقوق کی پامالی میں اضافہ ہوا ہے اور وہاں صورت حال بدتر ہوتی چلی جا رہی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشیل نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا کہ چین کے حکام بیجنگ اولمپکس سے پہلے چین میں استحکام اور ہم آہنگی کا تاثر دینے کے لیے انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کی زبان بندی کر رہے ہیں اور انہیں جیلوں کی سلاخوں میں دھکیلا جا رہا ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق بیجنگ میں اس سال اگست میں ہونے والے اولمپکس کھیلوں کی وجہ سے چین میں جبر کی ایک لہر آئی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مخالفین پر آواز اٹھانے کی پاداش میں مقدمات بنائے جارہے ہیں اور انہیں جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق اب اس بات کا امکان بڑھ گیا ہے کہ اولمپکس کے کھیل چین میں انسانی حقوق کی کوئی اچھی روایت چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔


انسانی حقوق کے عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ عالمی رہنما چین اور خاص طور پر تبت میں انسانی حقوق کی ابتر صورت حال پر خاموش رہ کر اس جرم میں شامل ہونے کا خطرہ مول لیں گے۔

چین نے حالیہ دنوں میں اس بات پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیم اس کے بقول سیاسی معاملات کو اولمپکس سے الجھا رہی ہیں۔

ایمنسٹی کی تازہ رپورٹ جس میں چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا گیا ہے لازمی طور پر بیجنگ اولمپکس کے بائیکاٹ کے مطالبے میں مزید شدت کا باعث بنے گی۔

اب تک انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی نے بڑی شدت سے اس بات پر اصرار کیا ہے کھیلوں کو سیاسی معاملات سے علیحدہ رکھا جانا چاہیے۔

انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کے عہدیدار ان دنوں بیجنگ اولپمکس سے قبل تیاروں کا جائزہ لینے کے لیے چین کے دورے پر ہیں۔

انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کے سربراہ ہین وربرجن نے کہا ہے کہ حالیہ برسوں میں جس طرح بیجنگ اولمپکس ایسے معاملات سے الجھ رہے ہیں جن کا کھیلوں کے انعقاد سے کوئی تعلق نہیں اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔

اس اعتراف کے ساتھ ہی انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کا سرکاری موقف دہرایا گیا کہ ان کی توجہ کا مرکز کھیلوں کا کامیابی سے انعقاد ہے۔

تاہم بیجنگ اولمپکس کے جزوی اور مکمل بائیکاٹ کے مطالبے میں شدت آتی جا رہی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد