BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 April, 2008, 12:40 GMT 17:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چین : انسانی حقوق کےکارکن کو سزا
ہو جیا
ہو جیا نے اپنی گرفتاری سے قبل چین میں انسانی حقوق کی پامالی پر سخت تنقید کی تھی
چین میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کی تشہیر کرنے والے ایک سرگرم کارکن کو بغاوت کے جرم میں ساڑھےتین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

چونتیس سالہ ہوجیا کے وکیل کا کہنا ہے کہ انہیں’ریاستی طاقت اور اشتراکیت کے خلاف بغاوت کرنے کا مجرم ٹھہرایا گیا ہے‘۔

ہوجیا نے بڑے لمبے عرصے تک ماحول، مذہبی آزادی اور ایچ آئی وی ایڈز سے متاثرہ لوگوں کے حقوق کے لیے کام کیا ہے۔

ہوجیا کو یہ سزا ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد دی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چین کے حکام بیجنگ اولمپکس سے پہلے چین میں استحکام اور ہم آہنگی کا تاثر دینے کے لیے انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کی زبان بندی کر رہے ہیں اور انہیں جیلوں میں دھکیلا جا رہا ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق بیجنگ میں اس سال اگست میں ہونے والے اولمپکس کھیلوں کی وجہ سے چین میں جبر کی ایک لہر آئی ہوئی ہے اوراس بات کا امکان بڑھ گیا ہے کہ اولمپکس کے کھیل چین میں انسانی حقوق کی کوئی اچھی روایت چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔

ایمنسٹی انٹر نیشنل کے رپورٹ کے جواب میں چین کی ’چائنا سوسائٹی فار ہیومن رائٹس سٹڈیز، نے ادارے پر تعصب کاالزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ملک میں انسانی حقوق کی مثبت پہلو اور بہتر ہوتی صورتحال کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔

ہو جیا کی گرفتاری نے بڑے پیمانے پر بین الاقوامی حقوق کی تنظیموں اور مغربی سفیروں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔چین میں امریکی سفیر کی ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو چین کے اس فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے جبکہ یورپی یونین نے مسٹر ہو کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

بیجنگ میں یورپی یونین کے ترجمان ویلیم فنگلٹن نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم نے پہلے ہی مرحلے پر واضح طور پر کہا تھا کہ ان کو گرفتار ہی نہیں کرنا چاہیے تھا اور انہیں فوری رہا کر دینا چاہیے اور ہمارا اب بھی یہی مطالبہ ہے۔

گزشتہ سال کے اواخر میں اپنی گرفتاری سے قبل ہو جیا نے چین میں انسانی حقوق کی پامالی پر سخت تنقید کی تھی ۔ہمارے نمائندے کے مطابق وہ چین میں صحافیوں، مختلف تنظیموں اور سفارت خانوں کو معلومات پہنچانے والا واحد شخص تھے۔

چین کی حکومتی خبر رساں ایجنسی زن ہوا کا کہنا ہے کہ ’عدالت نے ہو جیا کو سزا دینے میں نرمی برتی ہے اس کے باوجود کہ انہوں نے اپنے جرائم قبول کر لیے ہیں۔ ہو جیا کو یہ سزا ایک اور کارکن ینگ چون لن کی گرفتاری کے صرف دو ہفتے بعد سنائی گئی ہے جنہیں انہی جرائم کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد