اولمپک مشعل اٹھانے سے انکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تبت میں چینی حکومت کی کارروائی کے خلاف احتجاج میں ہندوستانی فٹبال ٹیم کے کپتان بائی چنگ بھوٹیا نے اولمپک کھیلوں کی مشعل کے ساتھ دوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ اولپمک مشعل سترہ اپریل کو ہندوستان لائی جائے گی اور اس کے ساتھ دوڑنے کے لیے کھیلوں کی دنیا سے وابستہ کئی اہم شخصیات کو دعوت دی گئی ہے۔ انگریزی روزنامے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھوٹیا نے ہندوستانی اولمپک ایسوسی ایشن کو ایک خط لکھ کر کہا کہ’ میں تبت کے عوام کے کاز سے ہمدردی رکھتا ہوں۔ سکم میں میرے بہت سے دوست ہیں جو بودھ مذہب کو مانتے ہیں۔ میں اس طرح تبت کے عوام اور ان کی جدوجہد کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا چاہتا ہوں۔ میں کسی بھی شکل میں تشدد کے خلاف ہوں۔‘ لیکن بھوٹیا کا کہنا ہے کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے اور ان پر کسی تبت نواز گروپ کی جانب سے دباؤ نہیں تھا۔ اولمپک کھیل اگست میں بیجنگ میں ہونے ہیں لیکن تبت میں مظاہرین کے خلاف کمیونسٹ حکومت کی سخت کارروائی کا سایہ گہرانا شروع ہوگیا ہے۔ فرانس کے صدر نکولا سارکوزی یہ کہہ چکے ہیں کہ تبت کے حالات مزید بگڑے تو فرانس اولمپکس کا بائکاٹ کرسکتا ہے۔ مغربی دنیا نے انیس سو اسی میں بڑے پیمانے پر اولمپکس کا بائکاٹ کیا تھا۔ ان کھیلوں میں ہندوستان نے ہاکی میں سونے کا تمغہ جیتا تھا۔ انیس سو چوراسی کے المپمکس میں بہت معمولی فرق سے چوتھا مقام حاصل کرنے والی پی ٹی اوشا ان ایتھلیٹس میں شامل ہیں جنہیں مشعل لیکر دوڑنے کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ مشعل گریس سے منگل کے روز بیجنگ پہنچی ہے اور اب اسے پہلے چین کے سبھی صوبوں اور پھر دنیا بھر میں گھمایا جائے گا۔ |
اسی بارے میں تبتی مظاہرین عدالتی تحویل میں 14 March, 2008 | انڈیا تبتی مظاہرین کا دلی میں احتجاج19 March, 2008 | انڈیا تبتی ’کشمیر کی آزادی‘ کے خواہاں18 March, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||