BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 March, 2008, 12:29 GMT 17:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تبتی مظاہرین کا دلی میں احتجاج

تیبتن مہاجرین
گزشتہ پچاس برسوں سے تبتی چین سے آزدی کی جدوجہد کر رہے ہیں
تبت کی آزادی اور چین کی جانب سے تبت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے لیے تبتیوں کے احتجاج کی گونج دارالحکومت دلی میں سنائی دینے لگی ہے۔ بدھ کے روز تبت کے جلاوطنی پارلمیان کے 42 ممبران نے دلی میں بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

تبتی پارلیمان کے ارکان نے عالمی طاقتوں اور دنیا کے سبھی ملکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ تبت میں چین کی جانب سے ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تبت بھیجی جائے اور تبتیوں پر ہونے والے مظالم کو روکنے کے لیے جلد سے جلد بیرونی مداخلت کی جائے۔

ادھر تبتی جلاوطن حکومت کا مرکز دھرم شالہ سے بی بی سی کے نامہ نگار شیام سندر نے بتایا ہے کہ جلاوطن حکومت کے سربراہ اور روحانی پیشواء دلائی لاما نے 10 مارچ کو چین کی سرحد کے جانب احتجاج شروع کرنی والی تبت یوتھ کانگریس سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا مارچ ختم کردیں۔

شیام سندر کے مطابق یوتھ کانگریس کی ایک مٹینگ جاری ہے اور ابھی یہ طے نہیں ہو پایا ہے کہ یوتھ کانگریس اور دیگر مظاہرین اپنا مارچ ختم کرتے ہیں یا نہیں۔

دلی میں جلاوطن تبت پارلیمان کے ارکان کا کہنا ہے کہ تبت میں میڈیا کی آزادی کو بحال کیے جانے کے لیے عالمی طاقتوں کو کوشش کرنی چاہیے اور 10 مارچ کو شروع ہونے والے احتجاج میں ہونے والے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جائے۔

مظاہرین
مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ عدم تشدد کے راستے پر قائم ہیں

جلاوطن تبت پارلیمان کے سپیکر کرما شوفیل کا کہنا تھا ’دنیا کی ساری حکومتیں، عالمی طاقتیں، اقوام متحدہ اور وہ سب ممالک جو جمہوریت کے حمایتی ہیں ان سے ہماری اپیل ہے کہ وہ تبت کی صورتحال پر غور کریں اور چین سے وہاں امن قائم کرنے اور انسانی حقوق کو بحال کرنے کی بات کرے۔‘

کرما کا مزید کہنا تھا کہ جلاوطن تبت پارلیمان کی دھرم شالہ میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ تبت تحریک کو پوری دنیا میں ’سینٹرلائز ‘ یعنی متحد کیا جائے گا اور دنیا کے جس بھی ممالک میں تبتی موجود ہیں وہ اس تحریک کا حصہ بنے گا۔ یہ تحریک ’ تبت کرائسز ‘ نامی کمیٹی کے اندر چلائی جائے گی۔

جلا وطن تبت پارلیمان کی ڈپٹی سپیکر ڈولما گائیری کا کہنا تھا کہ فی الوقت تبت میں تبتیوں کو آزادانہ زندگی گزارانہ مشکل ہو رہا ہے۔ چین کی فوج اور پولیس وہاں لوگوں کو امن اور سکون کی زندگی گزارنے سے محروم کر رہے ہیں۔ اس وقت ہمارا مطالبہ ’ تبت کی آزادی سے لیکر تبتیوں کے بنیادی حقوق کی بحالی ہے ‘۔

اس موقع پر بعض ہندوستانی پارلیمان کے ارکان حزب اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اور سابق وزیر دفاع جارج فرنڈیس بھی موجود تھے۔

تبت کی آزادی کے حامی نوجوان تبتیوں نے دلی کی پارلیمنٹ کے سامنے ایک مارچ نکلا جس میں وہ تبت کی آزادی کے نعرے لگا رہے تھے اور اپیل کر رہے تھے کہ ہندوستانی حکومت تبت کے مسئلہ پر چین سے کھل کر بات کرے اور تبت میں چین کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف وہ اپنی آواز بلند کرے۔

نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں 10 مارچ کو تقریباً ایک ہزار تبتی پناہ گزینوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔ یہ مظاہرین چینی سفارتخانے کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

تبتی کشمیری مہاجرین ’کشمیرکی آزادی اہم‘
تبتی مہاجرین کشمیر کی آزادی کو ترجیح دیتےہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد