چین عوام کو آزادی فراہم کرے: بش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
واشنگٹن میں مذاکرات کے دوران امریکی صدر جارج بش نے اپنے چینی ہم منصب ہُو جِنتاؤ سے کہا ہے کہ وہ چینی کرنسی یوآن کی قیمت پر نظرثانی کریں جس کی وجہ سے گزشتہ سال امریکہ کو دو سو ارب ڈالر سے زائد کے تجارتی خسارے کا سامنا رہا تھا۔ امریکی صدر نے کہا کہ چینی حکومت اپنے عوام کو مزید آزادی فراہم کرے کیوں کہ چینی معیشت کی کامیابی اسی سے منسلک ہے۔ صدر بش نے کہا کہ خرید و فروخت اور اشیاء کی تخلیق کرنے کی چینی عوام کی آزادی سے ہی چین آج کے دور میں کامیابی حاصل کررہا ہے۔ صدر بش نے کہا کہ چین کی مزید کامیابی تبھی ہوگی جب چینی حکومت اپنے عوام کو عبادت کرنے، اجلاس کرنے اور اظہار خیال کی آزادی فراہم کرے گی۔ چینی صدر نے انسانی حقوق سے متعلق کوئی بات نہیں کی۔ لیکن ایران کے ایٹمی تنازعے پر جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں چینی صدر ہُو جِنتاؤ اور صدر جارج بش کی ملاقات میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں جب صدر بش سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے گول مول سا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک اس پر متفق ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کی ٹیکنالوجی یا معلومات نہیں ہونی چاہئیں اور یہ کہ وہ صدر جِنتاؤ سے اس سلسلے میں سلامتی کونسل میں یہ معاملہ اٹھانے پر بات کر رہے ہیں۔ چینی صدر ہُو جِنتاؤ کے امریکہ کے دورہ پر دونوں ملکوں کے اقتصادی معاملات اہم ہیں کیوں کہ امریکہ کا موقف ہے کہ چین اپنی کرنسی یوآن کو مصنوعی طور پر کم قیمت پر رکھ رہا ہے جس کی وجہ سے اسے اپنی اشیاء امریکہ کو فروخت کرنے میں آسانی ہورہی ہے۔ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ چین اپنی کرنس کو عالمی منڈی کے اصولوں پر چھوڑ دے۔
صدر بش کے استقبالیہ خطاب کے بعد جب صدر ہُو جنتاؤ نے بولنا شروع کیا تو صحافیوں کے ساتھ کھڑی ایک خاتون نے زور زور سے چینی اور انگریزی میں چیخنا شروع کر دیا کہ ’صدر بش انہیں روکیں انہیں روکیں۔‘ سکیورٹی کے اہلکاروں نے انہیں باہر نکالا۔ یہ پتہ نہیں چل سکا کہ وائٹ ہاؤس کی سخت سیکورٹی کے باوجود یہ خاتون اس جگہ تک کیسے پہنچ گئیں جہاں دنیا بھر سے آئے صحافی کھڑے تھے۔ لیکن یہ وائٹ ہاؤس اور چینی صدر دونوں کے لیے ایک خفت کا لمحہ تھا اور سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق چین میں براڈکاسٹ ہونے والے ان کے سگنل میں وہ تصاویر بند یا بلاک کر دی گئیں جن میں اس خاتون کو نعرے مارتے دکھایا جا رہا تھا۔ بعد میں یہ بات ابھرکر آئی کہ اس خاتون صحافی کا تعلق ’ایپک ٹائمز‘ نامی ایک اخبار سے ہے اور وہ روحانی تحریک فیلن گانگ سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس دورے میں چینی صدر جہاں جہاں گئے انہیں تبت اور تائیوان کے علاوہ فیلن گانگ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کی طرف سے مظاہروں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دونوں صدور کے درمیان اس ملاقات میں سب سے زیادہ اہمیت دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات اور اس سے متعلق معاملات کو دی گئی۔ امریکی کاروباری حلقوں میں اس بات پر تشویش ہے کہ سن 2005 میں امریکہ کا چین کے ساتھ تجارتی گھاٹا دو سو ارب ڈالر سے زائد کا تھا۔ امریکہ کا یہ کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ چین نے اپنی کرنسی کو مصنوعی طور پر بیس سے چالیس فیصد تک سستا رکھا ہوا ہے جس سے چینی مصنوعات امریکہ میں سستی پڑتی ہیں جبکہ امریکی مصنوعات چین میں مہنگی پڑتی ہیں۔
مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں رہنماؤں نے تائیوان پر بھی اپنی پالیسی واضح کی۔ چینی صدر نے صاف الفاظ میں کہا کہ تائیوان چین کا حصہ ہے اور چین اسے کسی بھی صورت میں آزادی دینے پر تیار نہیں ہوگا۔ امریکی صدر بش نے بھی کہا کہ وہ تائیوان کی آزادی کی حمایت نہیں کرتے مگر انہوں نے کہا کہ چین کو تائیوان کے ساتھ مسائل پرامن طریقے سے حل کرنے چاہئیں۔ اس ملاقات میں شمالی کوریا اور اس کے جوہری عزائم کا معاملہ بھی زیربحث آیا اور چینی صدر نے امریکہ کو یقین دلایا کہ چین اس سلسلے میں ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ اپنے چار روزہ دورے میں چینی صدر مائکروسافٹ کے چئیرمین بل گیٹس سے بھی ملے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے امریکی ہوائی جہاز بنانے والی کمپنی بوئنگ کا بھی دورہ کیا تھا جس سے چین نے حال ہی میں 80 جیٹ خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ |
اسی بارے میں چین:فائرنگ کا حکم دینے والاافسرگرفتار11 December, 2005 | آس پاس چینی دانشوروں کا کھلا خط13 December, 2005 | آس پاس گوگل چین میں سینسر پر راضی25 January, 2006 | آس پاس چین: دفاعی بجٹ میں 14 فیصد اضافہ04 March, 2006 | آس پاس چین کےغریب دیہاتی کی ترقی 05 March, 2006 | آس پاس امریکہ اپنے گریبان میں جھانکے: چین09 March, 2006 | آس پاس چینی صدر امریکہ کے دورے پر20 April, 2006 | آس پاس چینی صدر امریکہ کے دورے پر20 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||